انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page viii

(۳) اقرار کرو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع پر ۲۲ /۱ کتوبر ۱۹۵۰ء کو صبح دس بجے اپنے خطاب میں خدام کو جس اہم بات کی طرف توجہ دلائی وہ سچ بولنے کے متعلق تھی۔حضور نے عہد کی اہمیت بیان فرما کر دورانِ اجتماع خدام کو کھڑا کر کے ان سے ہمیشہ سچ بولنے کا عہد لیا۔اور فرمایا کہ اسلام ، مذہب اور انسانیت کی جان سچ ہے۔جو شخص سچ نہیں بولتا وہ قوم کو تباہ کرنے والا ہوتا ہے۔(۴) مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں نو جوانوں کو ضروری ہدایات اجتماع خدام الاحمدیه مرکز یه پر ۲۲ اکتو بر ۱۹۵۰ء کو رات کے وقت حضور پنڈال میں اُس وقت تشریف لائے جب خدام کے مابین تقریری مقابلہ ہورہا تھا۔اس موقع پر حضور نے تقریر اور مضمون نویسی پر خدام کو بیش قیمت ہدایات دیں۔جن میں دوران تقریر گرج اور اونچی آواز میں بولنے سے خدام کو منع کرتے ہوئے فرمایا کہ مضمون کو آہستگی سے اور ایسے رنگ میں پڑھنا چاہئے کہ سامعین پڑھنے والے کی آواز میں سموئے جائیں۔اور انتظامیہ کو بھی تقاریر کے لئے عناوین سوچ سمجھ کر دینے چاہئیں جس سے خدام کو بولنے کی مشق ہو جائے۔اور جہاں تک تحریری مضامین کا سوال ہے اس سلسلہ میں خدام کے حلقے اور سرکل بنا دیں اور ان کو ایک مضمون دے دیا جائے جہاں تمام خدام اس مضمون کے حوالہ سے تیاری کریں اور اپنے نمائندہ کو میٹنگ منعقد کر کے دلائل لکھوائیں اور وہ یہاں آکر سُپر وائزر کے سامنے مضمون لکھے۔اسے کتابیں دیکھنے کی اجازت ہو مگر کسی سے مشورہ کی نہیں اور یوں ساری کی ساری جماعت اس مضمون کی تیاری میں شامل ہو گی۔اس موقع پر حضور نے خدام کو اپنے اپنے حلقہ اور علاقہ کے تحت اکٹھے بیٹھنے کی بھی نصیحت فرمائی۔