انوارالعلوم (جلد 22) — Page 53
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۵۳ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع میں بعض اہم ہدایات نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع ۱۹۵۰ء کے آخری اجلاس میں بعض اہم ہدایات فرموده ۲۳ را کتوبر ۱۹۵۰ء بر موقع اختتامی اجلاس سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ بمقام ربوہ ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔' چونکہ اب میں محسوس کر رہا ہوں کہ مجھے ضعف زیادہ ہے اس لئے میں انہی تقریروں پر کس کروں گا جو میں کل سے کرتا چلا آرہا ہوں البتہ انعامات کی تقسیم کے متعلق میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔چاہئے تھا کہ نوجوانوں کی ایسے رنگ میں تربیت کی جاتی کہ انہیں معلوم ہوتا کہ اس موقع پر انہیں کس طرح کام کرنا چاہئے۔جب کسی نوجوان کو انعام دیا جاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسرے نو جوانوں کے دلوں میں بھی تحریک پیدا ہو کہ وہ بھی ویسے ہی کام کریں اور دوسروں کے دلوں میں تحریک کا ثبوت اس طرح مل سکتا ہے کہ وہ اس میں دلچسپی لیں۔یوں تو انعام دینے والا ، دوسرے کے لئے دل میں بھی دعا کرسکتا ہے مگر میں نے جو طریق جاری کیا تھا کہ دوسرے بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيْهِ کہیں تو اس کی غرض یہ تھی کہ دوسروں کے دل میں ایسے کاموں کی رغبت پیدا ہو۔مگر انعامات کی تقسیم کے وقت باقی سب لوگ خاموش رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میری یہ ہدایت انہیں فراموش ہو چکی ہے۔اُن کا فرض تھا کہ کسی کو انعام ملتا تو وہ بلند آواز سے بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِ کہتے۔دوسری عجیب بات میں نے یہ دیکھی ہے کہ انعام لینے والوں کو بھی یہ معلوم نہیں کہ