انوارالعلوم (جلد 22) — Page 43
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وو ۴۳ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں ہدایات نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں نو جوانوں کو ضروری ہدایات فرموده ۲۲ /اکتوبره ۱۹۵ء بر موقع ( دوسرا دن) سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ بوقت شب بمقام ربوہ) پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدام کو یہ دن کام میں گزار نے چاہئیں۔ابھی میں جب گھر سے آیا ہوں تو کچھ خدام باہر کھڑے ہوئے تھے پھر یہاں سے بھی بعض خدام اُٹھ کر جاتے رہے اس کے یہ معنی ہیں کہ یہاں انہیں کام پر لگائے رکھنے کا کوئی انتظام نہیں۔یہ تربیت اور نظام کے مظاہرے کے دن ہیں اس لئے اگر کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جو نظام کے خلاف ہے تو جس غرض کیلئے یہ اجتماع کیا گیا ہے وہ اس کی روح کو کچلنے والی ہوگی اس لئے مرکزی معتمدین اور زعماء یہ بات نوٹ کر لیں کہ آئندہ جو خدام یہاں بیٹھیں وہ خیموں کے نظام کے مطابق بیٹھیں یعنی ہر جماعت اکٹھی بیٹھے کیونکہ یہ بات تو یہاں نہیں کہ انہوں نے متفرق جگہوں سے آنا ہے یا انہوں نے متفرق کاموں سے آنا ہے یہاں جگہ بھی ایک ہے اور سارے دن کا پروگرام بھی مقرر ہے۔جس وقت جلسہ ہوگا خدام کسی نہ کسی کام میں مصروف ہوں گے اور اس کام کو چھوڑ کر انہوں نے یہاں آ جانا ہو گا۔مثلا کھانا ہے وہ بھی خدام اکٹھا کھاتے ہیں۔یعنی کھانے کا بھی ایک خاص وقت مقرر ہے، پھر رہائش کی جگہ بھی ایک ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ جلسہ میں خدام الگ الگ بیٹھیں۔آئندہ کیلئے یہ انتظام ہونا چاہئے کہ خدام جماعت وار بیٹھیں اور ایک خاص وقت