انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 650 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 650

انوار العلوم جلد ۲۲ اتحاد المسلمین زکوۃ میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔ایک غریب آدمی قید ہو جاتا ہے اس کے بچوں کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تو اسلام کہتا ہے زکوۃ میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔گویا اسلام نے زکوۃ کے نظام کو اس قدر وسیع کیا ہے اور اتنا نرم رکھا ہے کہ ہر قوم اور ہر گروہ کے لوگ اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں کہ کسی کا سر بھی نیچا نہ ہو کیونکہ بڑی زکوۃ حکومت خود دے گی مثلاً زمین ہے۔زمین کی زکوۃ میں ذاتی طور پر نہیں دے سکتا بلکہ یہ زکوۃ گورنمنٹ کے پاس جمع کرائی جائے گی اور وہ آگے مستحقین میں تقسیم کرے گی۔اگر حکومت اس رقم میں سے کچھ میرے ہمسایہ کو دیتی ہے تو اگر چہ وہ میری رقم ہو گی لیکن میرا ہمسایہ اسے گورنمنٹ سے حاصل کرے گا اس طرح وہ میرا ممنون نہیں ہو گا اور میرے سامنے نظریں نیچی نہیں کرے گا۔گویا ز کوۃ لینے کے نتیجہ میں جو تحقیر پیدا ہوتی ہے وہ پیدا نہیں ہوگی۔غرض اسلامی زکوۃ میں اس امر کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ غریب کی نظر نیچی نہ ہو اور با وجود مدد لینے کے وہ امیر ہمسایہ کو کہہ سکے کہ میں نے تجھ سے مدد نہیں لی۔پھر قضاء ہے۔یہ بھی اسلام کی ہی ایک خصوصیت ہے اور یہ خصوصیت بھی اس بات کی ایک دلیل ہے کہ اسلام اجتماعیت کی تعلیم دیتا ہے۔ایک فردا گر کسی کو ڈنڈا مارے تو قضاء اسے کہے گی کہ تم قاضی کے پاس جاؤ وہ اسے ڈنڈا مارے گا۔یہاں تک کہ اسلام میں بدکاری کی سزا سخت ہے لیکن اس کے لئے بھی اسلام نے یہی تعلیم دی ہے کہ تم سزا کو اپنے ہاتھ میں نہ لو بلکہ معاملہ قاضی کے پاس لے جاؤ۔وہ سزا دے گا۔ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت یہودی سزا پر عمل کیا جاتا تھا۔اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر خاوند دیکھے کہ اس کی بیوی بد کاری کر رہی ہے تو کیا اُسے حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مار ڈالے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اسے خود سزا دینے کا حق نہیں۔موسوی شریعت میں زنا کی سزا قتل تھی کے اور اس وقت تک اس بارہ میں موسوی شریعت کے مطابق ہی عمل کیا جاتا تھا۔اس شخص نے عرض کیا جب زنا کی سزا قتل ہے تو خاوند جب اپنی آنکھوں سے اپنی بیوی کو بدکاری کرتے دیکھے تو کیوں نہ اسے قتل کر دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے سزا دینے کا حق