انوارالعلوم (جلد 22) — Page 649
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۹ اتحاد المسلمین امام کرے وہی حرکت مقتدی بھی کرے، امام سجدہ میں جائے تو مقتدی بھی سجدہ میں چلے جائیں ، امام کھڑا ہو تو مقتدی بھی کھڑے ہو جائیں ، اس طرح ساری قوم امام کے تابع ہو جاتی ہے اور یہ طاقت ہٹلر میں بھی نہیں تھی کہ اس کے اشارے سے سارے لوگ جھک جائیں لیکن یہاں یہ بات پائی جاتی ہے کہ امام رکوع میں جاتا ہے تو سارے مقتدی رکوع میں چلے جاتے ہیں۔امام سجدہ میں جاتا ہے تو سارے لوگ سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔گویا خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ طاقت بخشی ہے جس نے اجتماعیت کی ایسی مستحکم روح قائم کر دی ہے جس کی مثال اور کسی مذہب میں نہیں ملتی۔پھر حج ہے۔یہ خصوصیت بھی صرف اسلام میں ہے۔بیشک ہندو لوگ یا ترا کے لئے جاتے ہیں لیکن یا ترائیں بیسیوں ہیں۔کوئی شخصی یا تر انہیں اور نہ ایسی تعلیم ہے کہ جس شخص کے پاس سرمایہ ہو پھر امن ہو ، اس کے لئے کوئی روک نہ ہوا ایسا شخص اگر جج نہیں کرتا تو وہ گنہگار ہے۔یہ اجتماعیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے۔باقی لوگ یا تر ا گئے تب بھی بزرگ ہیں اور اگر یا ترا کو نہ گئے تب بھی بزرگ ہیں۔پھر زکوۃ ہے۔اسلام میں جیسی زکوۃ پائی جاتی ہے۔وہ کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی۔بیشک یہودیوں میں بھی زکوۃ پائی جاتی ہے لیکن اس میں اتنی باریکیاں نہیں پائی جاتیں جتنی باریکیاں اسلامی زکوۃ میں پائی جاتی ہیں۔اسلامی زکوۃ کے اخراجات کو نہایت وسیع طور پر بیان کیا گیا ہے اور اس میں قومی ترقی کی ہر چیز آ جاتی ہے۔اس میں کلیت کا رنگ پایا جاتا ہے اور یہ بات یہودی زکوۃ میں نہیں پائی جاتی۔اسلامی زکوۃ میں ہر قسم کے غرباء کا حق مقرر کر دیا گیا ہے مثلاً ایک شخص کے پاس تجارت کے لئے سرمایہ نہیں تو اسلام کہتا ہے اسے کچھ سرمایہ دے دو۔ایک درزی ہے وہ درزی کا کام جانتا ہے لیکن اس کے پاس کوئی مشین نہیں تو اسلام کہتا ہے کہ زکوۃ میں سے کچھ اسے بھی دے دو۔ایک شخص کو یکہ چلانا آتا ہے لیکن اس کے پاس روپیہ نہیں تو اسلام کہتا ہے کہ زکوۃ میں اسے بھی کچھ دے دو۔اسی طرح ایک مسافر آتا ہے وہ مالدار ہوتا ہے لیکن وہ شہر میں جاتا ہے اور اس کا مال چوری ہو جاتا ہے اور وہ گھر سے بھی روپیہ منگوا نہیں سکتا تو اسلام کہتا ہے کہ