انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 648 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 648

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۸ اتحاد المسلمین ہے اور اس میں اسلام کا خلاصہ آ گیا ہے۔باقی لوگ ابھی ٹکریں مار رہے ہیں کہ ہمارا کلمہ کیا ہے۔اب یہ اتحاد کی کتنی بڑی صورت ہے مسلمانوں کے سوا دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔پھر اسلام میں ایک قبلہ پایا جاتا ہے لیکن اسلام کے سوا کسی مذہب میں قبلہ نہیں پایا جاتا۔بے شک ہندوؤں کے پاس سومناتھ کا مندر موجود ہے لیکن یہ ایسی چیز نہیں جس پر سارے ہند و جمع ہو جائیں۔عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی کوئی قبلہ نہیں۔وہ یروشلم کی مسجد کو بطور قبلہ پیش کرتے ہیں لیکن یہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پانچ سو سال بعد حضرت داؤد علیہ السلام نے بنائی تھی کے حضرت داؤد علیہ السلام سے پانچ سو سال قبل یہودیوں کے پاس کون سا قبلہ تھا ؟ ہمارے پاس پہلے سے قبلہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ظاہر ہوئے تو آپ نے بتا دیا کہ ہمارا فلاں قبلہ ہے اور اس طرح مسلمانوں پر کوئی دن ایسا نہیں آیا جب اُن کے پاس کوئی قبلہ نہ ہو۔یہ نہیں کہ ایک سال دو سال یا دس سال کے بعد قبلے کا حکم ہوا ہو بلکہ پہلے دن سے بتا دیا گیا ہے کہ ہمارا فلاں قبلہ ہے۔اب یہ اتحاد کی کتنی بڑی صورت ہے جو دوسرے مذہب والوں کو حاصل نہیں۔پھر نماز با جماعت ہے۔اسلامی نماز بھی انفرادی نماز نہیں بلکہ ایک قومی نماز ہے۔پہلے صفوں میں سیدھے کھڑے ہو جاؤ، قبلہ رُخ ہو ، اقامت ہو ، پھر ایک امام ہو، امام کھڑا ہو تو مقتدی کھڑا ہو ، امام سجدہ میں جائے تو مقتدی بھی سجدہ میں چلا جائے۔یہ خصوصیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے اور مذاہب میں نہیں۔نہ عیسائیوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے اور نہ یہودیوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے۔عیسائی اور یہودی اکٹھے تو ہو جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے لئے اکٹھا ہونے کا کہاں حکم ہے۔ساری تو رات میں اکٹھے ہو کر عبادت کرنے کا حکم نہیں ملتا۔تو رات میں یہی آتا ہے کہ کامل عبادت یہی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے لئے قربانی پیش کرو۔باقی یہ کہ عبادت کے لئے تم اکٹھے ہو جاؤ ایسا کوئی حکم نہ پرانوں اور ویدوں میں موجود ہے اور نہ ایسا حکم تو رات اور انجیل میں پایا جاتا ہے۔صرف اسلام ہی ایسا مذ ہب ہے جو کہتا ہے پہلے اذان دو، پھر اس طرح مسجد میں آؤ، سیدھی صفوں میں کھڑے ہو جاؤ، پھر قبلہ کی طرف منہ کرو، سامنے ایک امام ہو جو حرکت