انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 37

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۳۷ اقرار کرو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اقرار کرو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے (فرموده ۲۲ را کتوبر ۱۹۵۰ء بر موقع ( دوسرا دن ) سالانہ اجتماع خدام الاحمد یہ بوقت ۱۰ بجے صبح بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :۔ ایک نقص میں نے گھر سے یہاں آتے ہوئے یہ دیکھا ہے کہ بعض حصے کام کے ایسے ہیں جن میں خدام الاحمدیہ کی یہ نگرانی نہیں کی جاتی کہ وہ تمام کے تمام اس میں مشغول ہیں یا نہیں ۔ مثلاً فٹ بال کا میچ ہو رہا تھا تو ضروری نہیں سمجھا گیا کہ اس امر کی نگہداشت کی جائے کہ آیا سارے خدام میچ دیکھ رہے ہیں یا نہیں ۔ میں نے دیکھا کہ کچھ خدام میچ دیکھ رہے تھے اور کچھ اِدھر اُدھر کھڑے تھے اس طرح یہ غرض کہ خدام سالانہ اجتماع کے دو تین دن اس مشق میں گزاریں کہ ہر وقت کام میں مشغول رہیں باطل ہو گئی کیونکہ ان دو تین دنوں میں بھی بعض حصے ایسے ہیں جن میں بعض خدام مشغول ہیں اور لیے ایسے ہیں جن میں بعض خدام مشغول ہیں بعض مشغول نہیں اس لئے میں مجلس انتظامیہ خدام الاحمد یہ مرکز یہ کو یہ ہدایت کرتا ہوں الاحمد یہ مرکز یہ کو یہ کرتا کہ وہ فوراً اس بارہ میں قانون بنا کر آئندہ اس کی تعمیل کرائے اور دیکھے کہ آیا تمام کے تمام خدام کام میں لگے رہتے ہیں یا نہیں ۔ مثلاً میچ دیکھنا بھی کام ہے اور یہ ضروری امر ہے کہ جب کھیلیں ہو رہی ہوں تو باقی خدام دیکھ رہے ہوں ۔ یہ نہ ہو کہ بعض خدام کھیلیں دیکھ رہے ہوں اور بعض اِدھر اُدھر پھر رہے ہوں ۔ اگر ایک وقت میں چار پانچ کھیلیں ہو رہی ہوں تو منتظم خدام سے پوچھ لیں کہ وہ کونسی کھیل دیکھنا چاہتے ہیں اور ہر ایک کو حکم دے دیں کہ وہ کوئی نہ کوئی کھیل ضرور دیکھے تا آوارگی کی عادت نہ ہو ۔ دنیا کے لوگ تو ساری عمر