انوارالعلوم (جلد 22) — Page 602
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۰۲ سیر روحانی (۶) کون ابتر ثابت ہوا؟ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو اُس وقت گورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اُنہیں کچھ نہیں کہہ رہی تھی مگر مکہ کی گلیوں کی وہ زمین جس پر اُن قدوسیوں کے قدم پڑ رہے تھے اُن دشمنوں کو مخاطب کر کے کہہ رہی تھی کہ اے ابو جہل ! عتبہ، شیبہ اور ولید کہاں ہے؟ وہ تمہاری اولا دجس پر تم فخر کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا کرتے تھے وہ ابتر ہے یا آج تم ابتر ثابت ہورہے ہو؟ تمہاری اولادوں نے جن پر تمہیں ناز تھا تمہیں چھوڑ دیا اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں چلی گئیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آج اسی طرح آج تیرہ سو برس گزر گئے مگر دنیا میں کوئی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ بھی دنیا میں روحانی اولا دموجود ہے میں ابو جہل کا بیٹا ہوں یا عتبہ اور شیبہ کا بیٹا ہوں مگر آج لاکھوں مسلمان یہ کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں کیونکہ خدا نے یہ کہا تھا کہ اے محمد رسول اللہ ! ہم تجھے کوثر عطا کریں گے اور تیرے دشمن کو ابتر رکھیں گے۔تمام الہامی کتب سے افضل الہامی کتاب پھر آپ کو اللہ تعالی نے اس رنگ میں بھی کوثر عطا کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی آپ کو وہ کتاب ملی جس کی خیر اور برکت کا مقابلہ دنیا کی کوئی کتاب نہیں کر سکتی۔وہ تمام الہامی کتابوں میں سے ایک زندہ الہامی کتاب ہے۔وہ علوم اور معارف میں ایک نا پیدا کنا رسمندر ہے۔وہ دنیا کی تمام اخلاقی اور روحانی ضرورتوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے۔دنیا کے علوم خواہ کتنے بھی ترقی کر جائیں، زمانہ خواہ کتنی کروٹیں بدل لے یہ کتاب قیامت تک اُن کے لئے ایک کا مل راہنما کا کام دیتی چلی جائے گی۔