انوارالعلوم (جلد 22) — Page 593
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۳ سیر روحانی (۶) کر کے آؤ کہ مسلمانوں کی کتنی تعداد ہے؟ جب وہ اسلامی لشکر کا جائزہ لینے کے بعد واپس گیا تو اُس نے کہا میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سو اور سوا تین سو کے درمیان ہیں ۔ ابو جہل اس پر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہم نے میدان مار لیا۔ اُس نے کہا اے میری ! قوم بیشک مسلمان تھوڑے ہیں لیکن میرا مشورہ یہی ہے کہ مسلمانوں سے لڑائی نہ کرو۔ انہوں نے کہا تو بڑا بزدل ہے آج ہی یہ لوگ قابو آئے ہیں اور آج ہی تو ہمیں ایسا بزدلانہ مشورہ دے رہا ہے ۔ اُس نے کہا یہ درست ہے مگر پھر بھی میں تمہیں یہی مشورہ ڈونگا کہ جنگ نہ کرو کیونکہ اے میری قوم ! میں نے اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں ۹۳ یعنی میں نے جس شخص کو بھی دیکھا اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اس نیت اور ارادہ کے ساتھ میدانِ جنگ میں آیا ہے کہ آج مر جانا ہے یا مار دینا ہے اس کے سوا اور کوئی جذبہ اُن کے دلوں میں نہیں پایا جاتا تھا۔ یہ فدائیت کا بے مثال جذبہ مسلمانوں میں اسی لئے پیدا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ صفیت کا حامل بنایا تھا اور وہ تھوڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی بڑے بھاری تجربہ کار اور مسلح لشکر کے مقابلہ میں پیغام موت بن کر نمودار ہوتے تھے۔ اہلِ عرب کے ارتداد پر حضرت اس طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو سارا عرب مرتد ہو گیا اور ابوبکر کی حیرت انگیز جرات حضرت عمر اور حضرت علی جیسے بہادر انسان بھی اس فتنہ کو دیکھ کر گھبرا گئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اور حضرت اسامہ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا۔ یہ لشکر ابھی روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور آپ کی وفات پر جب عرب مرتد ہو گیا تو صحابہؓ نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہ کا لشکر ابھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے مرد اور بچے اور عورتیں رہ جائیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں رہے گا چنانچہ انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہؓ کا ایک وفد حضرت ابوبکر کی خدمت میں جائے اور اُن سے درخواست