انوارالعلوم (جلد 22) — Page 590
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۰ سیر روحانی (۶) ساری قوم دُکھ دینے اور نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہی تھی اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی صداقت کا اظہار تھا۔آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے کہا۔اے میرے چا ! آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں۔خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی توحید کے اعلان سے نہیں رک سکتا ۸۸ کیونکہ یہی وہ کام ہے جس کے لئے میں اس دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔آپ کا انتہائی مشکلات اور مصائب کے اوقات میں جبکہ ابوطالب کے قدم بھی لڑکھڑا گئے تھے یہ دلیرانہ جواب اِس لئے تھا کہ آپ آیشستا على الكفار کی صفت کے حامل تھے اور دین کے لئے اتنی غیرت رکھتے تھے کہ کفر کی ہر طاقت کے مقابلہ میں ایک مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ جاتے تھے اور کسی بڑی سے بڑی مصیبت کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔مسیلمہ کذاب کی ناکام واپسی اسی طرح ایک دفعہ مسلیمہ کذاب آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا اگر آپ مجھے اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیں تو میری ساری قوم آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہے۔اُس وقت اُس کی قوم کا ایک لاکھ سپاہی اُس کی پشت پر تھا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اتنا چاہتا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد اُسے حکومت دیدی جائے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں خدا نے آشراءُ عَلَى الْكُفَّار کی صفت کا حامل بنایا تھا انہوں نے جب اس بات کو سُنا تو آپ نے کھجور کی شاخ کے ایک تنکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو اُس وقت آپ کے ہاتھ میں تھی فرمایا تم تو خلافت کہتے ہو میں تو تمہیں یہ تنکہ بھی دینے کے لئے تیار نہیں۔یہ جواب ایسا تھا جس پر وہ غصہ اور نا راضگی کی حالت میں واپس چلا گیا اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ اپنے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوا اور اُس نے ایسا شدید حملہ کیا جس کی مثال کسی پہلے حملہ میں نہیں ملتی مگر با وجود اس کے کہ مسیلمہ اور اس کی قوم کی طرف سے حقیقی خطرہ کا امکان تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطالبہ کورڈ کر دیا اور اس بات کی ذرہ