انوارالعلوم (جلد 22) — Page 587
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۷ سیر روحانی (۶) غرض یہ وہ دربار ہے جس میں درباری کو جو خطاب دیا جاتا ہے اُس کے چھینے کی کسی میں طاقت نہیں ہوتی اور پھر جو خطاب دیا جاتا ہے وہ بالکل سچا اور حقیقت کے مطابق ہوتا ہے۔اگر کسی کو بہا در کہتا ہے تو وہ بہادر ہی ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ حکومت اسے خان بہادر کہے اور وہ ایک چوہے سے بھی ڈرتا رہے۔محمد رسول اللہ اور صحابہ کرام " پھر ہم نے دیکھا کہ اس قسم کا ایک اور اعلان بھی اس دربار سے ہو رہا تھا اور دربارِ خاص کا کو ایک اور عظیم الشان خطاب مالک اپنے گورنر جنرل کے متعلق کہہ رہا تھا کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ وَ الَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرْسِهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا رَيْمَا هُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِّن اثر السجود ، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور وہ لوگ جو اُن پر ایمان لا کر ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں کفار کے لئے بڑے سخت واقع ہوئے ہیں مگر ان کا آپس میں سلوک انتہائی رحم اور شفقت پر مبنی ہے۔تو انہیں دیکھے گا کہ وہ رات اور دن خدا تعالیٰ کے حضور رکوع وسجود میں بسر کرتے اور اُس کا فضل تلاش کرتے ہیں اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور اُنکی اس پاکیزہ زندگی کا نشان خود ان کے چہروں سے عیاں ہو گیا ہے۔قوت مؤثرہ اور قوت متاثرہ کے کرشمے حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنا یا ہے کہ وہ ایک طرف تو اپنے رگر دو پیش کے اثرات کو قبول کرنے کے لئے بڑی شدت سے مائل رہتا ہے اور دوسری طرف اس میں یہ بھی طاقت ہے کہ اگر چاہے تو وہ ایسے اثرات کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔گویا ایک طرف تو وہ ایک مضبوط چٹان ہے کہ جس سے سمندر کی تیز لہریں ٹکرا کر واپس لوٹ جاتی ہیں اور اُس پر ذرا بھی نشان پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں اور دوسری طرف وہ ایک اسفنج کے ٹکڑے کی طرح یا نرم موم کی طرح ہے کہ اُس پر ہاتھ ڈالتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں طاقت مقابلہ ہے ہی نہیں اور یہی