انوارالعلوم (جلد 22) — Page 581
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۱ سیر روحانی (۶) چہارم عملاً واپس لا کر دل کو تیسری خوشی پہنچائی۔کیا دنیا کا کوئی دربار خاص اس روحانی دربار کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ دربار خاص میں محمد رسول اللہ صلی اللہ پھر سب حکومتیں ایک عرصہ کے بعد کمزور ہو کر مٹ جاتی ہیں کوئی علیہ وسلم کی دائمی حکومت کا اعلان حکومت دائی نہیں ہوتی۔انگریزوں ہی کو دیکھ لو اُن کی حکومت اب ہندوستان میں کہاں ہے؟ سیلون میں کہاں ہے؟ برما میں کہاں ہے؟ پرانی زبر دست حکومتیں کہاں ہیں ؟ نہ بادشاہ باقی رہے نہ اُن کے اُمراء اور وزراء باقی رہے ، نہ مشکلات میں مشورے دینے والے کام آئے نہ دوسروں کی مشکلات میں مدد دینے کا وعدہ کر نیوالے اپنے وعدوں کا ایفاء کر سکے مگر میں نے اس دربارِ خاص میں دیکھا کہ گورنر جنرل کو یہ بتایا جا رہا تھا کہ تم کو ہمیشہ کی حکومت دنیا پر دی جاتی ہے چنانچہ فرمایا۔وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا اے ہمارے رسول ! ہم نے تجھے کسی ایک قوم یا ایک ملک کی طرف نہیں بھیجا، کسی ایک صدی یا ایک زمانہ کے لوگوں کی طرف مبعوث نہیں کیا بلکہ دنیا کی ہر قوم اور قیامت تک آنے والا ہر زمانہ تیرا مخاطب ہے اور ہر فرد کے لئے تیری غلامی لازمی ہے گویا تیری حکومت دنیوی بادشا ہوں کی طرح عارضی اور فانی نہیں بلکہ دائمی حکومت تجھے عطا کی جاتی ہے اور ہمیشہ کی سرفرازی تجھ کو بخشی جاتی ہے اب کوئی ماں ایسا بچہ نہیں بن سکتی جو تیرے مقابل میں کھڑا ہو سکے۔یہ کیسا شاندار مقام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا اور کیسا عظیم الشان دربار ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز کے لئے منعقد ہوا۔دیوان خاص کی چوتھی غرض (۴) چوتھی غرض دیوانِ خاص کی یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ اپنے درباریوں کو اُن کے اچھے کاموں پر خطاب دیتا اور انعام بخشتا ہے مگر دنیا کے درباروں میں میں نے دیکھا کہ خطاب ہے تو بے معنی اور انعام ہے تو فانی، حکومتیں ” خان بہادر اور خان صاحب“ کا خطاب دیتی ہیں مگر حقیقتا نہ وہ خان ہوتے ہیں نہ بہادر۔پھر انعام دیتی ہیں تو بسا اوقات وہ انعام