انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 580

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۰ سیر روحانی (۶) مبادا آپ روپیہ کا تقاضا نہ کر دیں۔آپ نے فرمایا! اوہو میرے دوستوں کو بڑی تکلیف ہوئی جاؤ اور سارے شہر میں منادی کردو کہ ہر شخص جس کے ذمہ قیس کا کوئی قرض ہے وہ اُسے معاف کر دیا گیا ہے۔کہتے ہیں کہ اِس اعلان پر اس قدر لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے کہ ان کی سیڑھیاں ٹوٹ گئیں۔11 یہ وہ بردة تھے جو محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے تیار ہوئے جنہوں نے اپنی جانوں اور اپنے اموال کو ایک حقیر چیز کی طرح محض اس لئے لگا دیا کہ بنی نوع انسان کو ترقی حاصل ہو۔تمام مشکلات کو دُور کرنے کا وعدہ پھر دنیا میں حکومتوں پر جب مشکلات کے اوقات آتے ہیں تو بادشاہ اُن کا حوالہ دیکر کہتے ہیں کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تم ثابت قدم رہو گے اور ہماری حکومت کے ہوا خواہ ثابت ہو گے اور ہمارے درجہ کی بلندی کا موجب ثابت ہو گے مگر اس دربار میں میں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ تمام مشکلات کے حل کرنے کا بادشاہ خود وعدہ کرتا ہے۔مثلاً سب سے بڑا صدمہ اس روحانی گورنر جنرل پر ترک وطن کے صدمہ بچے کو اپنے آبائی وطن کے چھوڑنے کا پیش آنے والا مکہ میں واپسی کی بشارت تھا سو اس کی اُس نے پہلے خبر دے دی کہ عارضی طور پر ہماری مصلحت کے ماتحت تمہارے دشمن تم پر غالب آئیں گے اور تم کو اپنا وطن چھوڑ نا پڑیگا لیکن ہم تجھے پھر اپنے وطن میں واپس لائیں گے چنانچہ فرماتا ہے۔ان الَّذِي فَرضَ عَلَيْكَ الْقُرْآن تَرَادُكَ إلى معاد ۸۲ ہم جس نے تجھ پر قرآن کی حکومت قائم کی ہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب دشمن تجھے تیرے وطن سے نکال دیگا جس کی طرف دنیا حج اور عمرہ کے لئے بار بار آتی ہے تو ہم پھر تجھے واپس تیرے وطن میں لے آئیں گے۔غور کرو اور دیکھو کہ کتنی بڑی تشفی ہے۔اوّل مصیبت کے آنے کی خبر دی۔دوم اس مصیبت کے وقت میں پیشگوئی پورا ہونے کی خوشی پہنچائی۔سوم واپس آنے کی خوشخبری دی اور