انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 578

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷۸ سیر روحانی (۶) دیوانے اونٹ کھڑے ہیں اور اگر میں نے ذرا بھی انکار کیا تو وہ مجھے نوچ کر کھا جائینگے۔۷۵ غرض ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا اور اس طرح اپنے عمل سے بتا دیا کہ انسان کے اندر غرباء کی امداد کا کس قدر احساس ہونا چاہئے۔صدقہ کا ایک دینا ر تقسیم نہ ہونے پر اسی طرح ایک دفعہ صدقات کا کچھ روپیہ آیا تو اُن کو تقسیم کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ ایک دینار کسی کونے میں گر گیا اور آپ کو اُٹھانے کا خیال نہ رہا۔نماز پڑھانے کے بعد آپ کو یاد آیا تو لوگوں کے اوپر سے پھاندتے ہوئے آپ جلدی سے اندر تشریف لے گئے۔صحابہ حیران ہوئے کہ آج کیا بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی گھبراہٹ میں گھر تشریف لے گئے ہیں۔جب آپ واپس آئے تو آپ نے فرمایا صدقہ کا ایک دینا ر گھر میں رہ گیا تھا میں نے چاہا کہ جس قدر جلدی ممکن ہو اسے غرباء میں تقسیم کر دوں۔۶ کے حضرت عائشہ کی سخاوت اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گو خود نہیں کماتی تھیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے تعلق کی وجہ سے صحابہ آپ کی خدمت میں اکثر ھدایا بھجواتے رہتے تھے لیکن وہ بھی اپنا اکثر رو پی غرباء اور مساکین میں تقسیم فرما دیا کرتی تھیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک دن میں ہزار ہا روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ نے وہ سب کا سب شام تک تقسیم کر دیا اور ایک پائی بھی اپنے پاس نہ رکھی۔اس پر ایک سہیلی نے کہا آپ روزہ سے تھیں افطاری کے لئے چار آنے تو رکھ لیتیں آپ نے فرمایا تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا۔کے حضرت عائشہ کی اپنے ان کی عادت کو دیکھ کر ایک دفع ان کے بھانجے نے جس نے اُن کے مال کا وارث ہو نا تھا کہیں کہہ دیا کہ حضرت بھانجے سے نا راضگی عائشہ تو اپنا سارا مال لگا دیتی ہیں۔یہ خبر جس