انوارالعلوم (جلد 22) — Page 576
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷۶ سیر روحانی (۶) دُور دُور کا سفر کرینگے جیسے صحابہ قرآن کریم کو اپنے ہاتھ میں لے کر ہندوستان، ایران، عراق، مصر، بربر اور روم وغیرہ تک چلے گئے اور دوسری طرف آئندہ زمانہ کے لوگوں کے دل فتح کرنے کے لئے وہ اس کتاب کو لکھ لکھ کر پھیلا دینگے تا کہ ہر زمانہ کے لوگ اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔وہ دنیا کو اس ہتھیار سے فتح کرنے کی وجہ سے کرا چھ ہو جائیں گے لیکن معز ز ہونے کی وجہ سے وہ مغرور نہ ہونگے بلکہ بردة ہوں گے یعنی دوسروں پر احسان کرنے والے اور اُن کے غمخوار اور اپنی ترقی کو ذاتی بڑائی کا موجب نہیں بنائیں گے بلکہ اُسے محتاجوں کی تکلیفیں اور غرباء کی مشکلات دور کرنے کا موجب بنائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور چنا نچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی زندگی کے حالات پر نگاہ ڈالی آپ کے صحابہ کی غرباء پروری جائے تو ہر شخص کو یہ اقرار کرنے پر مجبور ہونا پڑیگا کہ ان میں یہ خوبی نہایت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بڑی شان عطا فرمائی مگر ہر قسم کی طاقت اور شوکت رکھنے کے باوجود انہوں نے غرباء اور مساکین کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھا اور اُنکی تکالیف کو دور کرنے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔حلف الفضول میں شمولیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے کہ مکہ کے بعض شرفاء نے ایک سوسائٹی بنائی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مظلوم ہوں اُن کی امداد کی جائے اس سوسائٹی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہوئے اور چونکہ اس کے بانیوں میں سے اکثر کے نام میں فضل آتا تھا اِس لئے اِس کا نام حلف الفضول رکھا گیا۔اس واقعہ پر سالہا سال گزرنے کے بعد ایک دفعہ صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! یہ کیسی سوسائٹی تھی جس میں آپ بھی شریک ہوئے تھے ؟ غالباً صحابہ کا منشاء یہ تھا کہ آپ تو نبی ہو نے والے تھے آپ ایک انجمن کے ممبر کس طرح ہو گئے جس میں دوسروں کے۔