انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 571

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷۱ سیر روحانی (۶) نرغہء اعداء میں گھر گئے۔ایسے خطرناک موقع پر اگر خدا کی حفاظت آپ کے شامل حال نہ ہوتی تو دشمن کے لئے آپ کو جانی نقصان پہنچانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔ہزاروں مسلح سپاہیوں کے سامنے کسی ایک شخص کی کیا حیثیت ہوتی ہے مگر ان نازک گھڑیوں میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے سامنے میدانِ جنگ میں ڈٹے رہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہاں سے ہٹ جانے یا خود حفاظتی کے لئے کسی پتھر کے پیچھے چھپ جانے کا خیال بھی آپ کے دل میں پیدا نہیں ہوا۔دشمن آگے بڑھا اور اُس نے آپ پر شدید حملہ کر دیا یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے اور آپ بیہوش ہو کر گڑھے میں گر گئے۔دشمن نے سمجھا کہ وہ آپ کو مارنے میں کامیاب ہو گیا ہے مگر جب جنگ کے بادل پھٹے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ میں سورج کی طرح دسکتے دیکھا اور یہ خبر اُن پر بجلی بن کر گری کہ آج بھی وہ ہزاروں کا لشکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ، اور کیوں ایسا نہ ہوتا جبکہ اس گورنر جنرل کے متعلق دربارِ خاص میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ واللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ، اے محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔جنگ حنین میں محمد رسول اللہ صلی اللہ اسی طرح حنین کی جنگ میں جب صرف با راه آدمی رسول کریم (۱۲) علیہ وسلم کا دشمن کی طرف بڑھتے چلے جانا صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گردورہ گئے تھے اور دشمن کے چار ہزار تیرانداز تیروں کی بارش برسا رہے تھے بعض صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا اور کہا کہ يَا رَسُولَ الله ! اِس وقت آگے بڑھنا ہلاکت کے منہ میں جانا ہے مگر آپ نے بڑے جوش سے فرمایا میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا اور خود دشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے آپ نے بڑھنا شروع کر دیا کہ :۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ