انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 569

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶۹ سیر روحانی (۶) میں کوئی گھبراہٹ پیدا نہیں ، آپ کے بدن میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا ، آپ کے جسم پر کپکپی طاری نہیں ہوتی ، آپ کے حواس پراگندہ نہیں ہوتے ، آپ بڑے اطمینان کے ساتھ اُن سفاک اور خونخوار بھیڑیوں کے درمیان سے خراماں خراماں نکل جاتے ہیں اور کوئی آنکھ آپ کو بد ارادہ سے نہیں دیکھ سکتی ، کوئی ہاتھ آپ پر وار کرنے کے لئے نہیں اُٹھ سکتا، کوئی تلوار اپنی میان سے باہر نہیں آسکتی ، زمین و آسمان کے خدا نے اُن کی آنکھوں کو اندھا کر دیا، اُن کے ہاتھوں کوشل کر دیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا کیونکہ خدا نے یہ فرمایا تھا کہ واللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ - غار ثور تک پہنچ کر بھی دشمن رسول کریم صلی اللہ جب دشمن نے دیکھا کہ اس کا یہ تیر بھی خالی چلا گیا تو علیہ وسلم کی گرفتاری میں کامیاب نہ ہو سکا اپنی ندامت اور شرمندگی مٹانے کے لئے اُس نے مکہ کے ہوشیار اور فنکا رکھوجیوں کی مدد سے آپ کے پاؤں کے نشانات دیکھتے ہوئے غار ثور تک آپ کا تعاقب کیا اور دشمن اس قدر قریب پہنچ گیا کہ حضرت ابو بکر جو اس ہجرت میں آپ کے ساتھ شامل تھے گھبرا اُٹھے اور انہوں نے کہا يَا رَسُول اللہ ! دشمن اس قدر قریب پہنچ چکا ہے کہ اگر وہ ذرا آگے بڑھ کر غار کے اندر جھا نکے تو ہمیں پکڑنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اطمینان سے فرماتے ہیں کہ اے ابو بکر ! گھبراتے کیوں ہو خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ ہمیں پکڑنے میں کامیاب ہوسکیں۔چنانچہ مکہ کے صنادید جس طرح رات کی تاریکی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے میں ناکام و نا مراد رہے ہیں اسی طرح وہ دن کی روشنی میں بھی آپ کی گرفتاری میں کامیاب نہ ہو سکے اور خدا نے بتا دیا کہ میں رات اور دن اس انسان کے ساتھ ہوں۔ممکن ہے اُن مکہ کے نوجوانوں میں بعض یہ خیال کرتے ہوں کہ چونکہ رات تھی اس لئے محمد رسول اللہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ، خدا اُن کو دن کے وقت غار ثور کے منہ پر لایا اور پھر اُن کی آنکھوں میں نا بینائی پیدا کر کے بتا دیا کہ اس کا اصل باعث یہ نہیں کہ محمد رسول اللہ رات کی تاریکی میں