انوارالعلوم (جلد 22) — Page 568
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶۸ سیر روحانی (۶) نہیں کہا کہ واللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ، ل خدا تعالیٰ تجھے خود لوگوں کے حملہ سے بچائے گا چنانچہ اُس نے حضرت عمرؓ کو اس طرح پکڑا کہ کوئی انسان اس طرح پکڑ نہیں سکتا۔انسان کی گرفت زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ کوئی مسلمان حضرت عمرؓ کے مقابلہ میں کھڑا ہو جا تا اور اُن کو مار دیتا، انسان کی گرفت زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت عمر کی بہن یا ان کا بہنوئی اور ان کا حبشی غلام انہیں راستہ میں پکڑ لیتے اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ جانے دیتے ، انسان کی گرفت یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت حمزہ یا کوئی اور صحابی حضرت عمر کے مقابلہ پر کھڑے ہو جاتے اور انہیں قتل کر دیتے مگر خدا تعالیٰ نے حضرت عمر کو اس طرح پکڑا کہ وہی عمر جو آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلا تھا آپ کے پاس پہنچ کر خود قتل ہو گیا۔جسم کی موت بھلا کیا حقیقت رکھتی ہے اصل موت تو وہ ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی کی غلامی میں داخل ہو جاتا ہے۔حضرت عمرؓ گئے تو اس نیت کے ساتھ تھے کہ وہ آپ کو مار دینگے لیکن اسی عمر کو خدا نے ایسا مارا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ فوت ہو گئے ہیں تو میں اُس کی گردن کاٹ دونگا۔۱۲ پھر واقعہ ہجرت پر غور کرو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم واقعہ ء ہجرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی معجزانہ رنگ میں حفاظت فرمائی۔ملکہ کے صنادید آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کرتے ہیں کہ مختلف قبائل کے مسلح نوجوان رات کو آپ کے مکان کے ارد گرد گھیرا ڈال لیں اور جب آپ باہر تشریف لائیں تو سب مل کر آپ کو قتل کریں تا کہ یہ خون قریش کے متفرق قبائل پر تقسیم ہو جائے اور بنو ہاشم انتقام لینے کی جرات نہ کر سکیں۔ادھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا اور اُدھر اُسی خدا نے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہوا تھا محمد رسول اللہ علیہ وسلم کو کفار کے اس بدارادہ کی اطلاع دے دی اور آپ کو مکہ سے ہجرت کا حکم دے دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر سے ایسی حالت میں نکلتے ہیں جب قریش کے مسلح نوجوان آپ کے قتل کے ارادہ سے آپ کے مکان کے ارد گر دیگھیرا ڈالے ہوئے ہیں مگر آپ کے دل