انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 566

انوار العلوم جلد ۲۲ سیر روحانی (۶) ہمیشہ زدوکوب کیا کرتا تھا، اب عمر وہ عمر نہیں رہا تھا جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ عہد کر کے نکلا تھا کہ آج میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے ہی واپس کو ٹو نگا، اب عمر اپنی اس اصل حالت پر آچکا تھا جو اُس کے لئے ازل سے مقد رتھی ، اب عمر اس رنگ میں رنگین ہو چکا تھا جس میں خدا تعالیٰ اُسے رنگنا چاہتا تھا ، اب عمر کی سنگدلی کی جگہ ایمان کامل نے لے لی تھی حضرت عمرؓ نے جب یہ آیت پڑھی۔اِنَّنِي آنَا اللهُ لا إله إلا انَا فَاعْبُدْنِي ، وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِي إِنَّ السَّاعَةَ أُتِيَةً أَكَادُ أَخْفِيْهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْس بما تشخی۵۹ تو وہ بے اختیار ہو کر بولے یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے۔یہ سنکر حضرت خباب جوان سے ڈر کر چھپے بیٹھے تھے باہر نکل آئے۔حضرت عمر کی دارار تم کو روانگی حضرت عمر نے جنہیں اب ایمان نے بیقرار کر دیا تھا بیتابی کے ساتھ خباب سے پوچھا مجھے جلد بتا ؤ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟ میں اُن سے ملنا چاہتا ہوں۔خباب نے بتا دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں جگہ ہیں مگر چونکہ حضرت عمرؓ نے ابھی تک اپنی تلوار اسی طرح کھینچ رکھی تھی جس سے یہ خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کے ارادے نیک نہیں اس لئے ان کی بہن اس خیال سے کہ خدانخواستہ ان کی نیت خراب ہی نہ ہو آگے بڑھی اور ان کے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہنے لگی خدا کی قسم ! میں تمہیں ہرگز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھ سے اقرار نہ کرو کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دُکھ نہیں پہنچاؤ گے۔حضرت عمر نے کہا نہیں نہیں بہن ! ایسا نہیں ہوسکتا مجھ پر اسلام کا گہرا اثر ہو چکا ہے۔یہ سنکر بہن نے انہیں چھوڑ دیا اور حضرت عمر دار ارقم کی طرف روانہ ہو گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں مقیم تھے۔حضرت عمرؓ کا رسول کریم صلی اللہ حضرت عمر نے دروازے پر پہنچ کر دستک علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہوتا ہی رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم اس وقت داخل صحابہ کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے تھے۔صحابہ نے جب دروازے کی دراڑ میں سے دیکھا کہ عمر ننگی تلوار لئے دروازے