انوارالعلوم (جلد 22) — Page 561
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶۱ سیر روحانی (۶) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرما تا ہے ویوتک فَاصْبِرُ یعنی اگر لِرَبِّک مشکلات آئیں تو ان پر صبر کی جیو مگر کے مقام صبر کی عظمت وَلِرَبِّكَ۔صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک ہوتا ہے صبر مجبوری۔، بڑے آدمی کا بیٹا ہوتا ہے وہ کسی کو مارتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ کیا کریں بول نہیں سکتے۔ہم نے کئی دفعہ دیکھا ہے بڑا آدمی ظلم کر رہا ہو تو غریب آدمی کی ماں الٹا اپنے بچے کو مارتی ہے۔یا اگر اُس نے کسی عورت کے خاوند کو مارا ہو تو وہ الگ بیٹھ کر روتے ہیں سامنے رو بھی نہیں سکتے۔یہ بیچارگی کا صبر ہے مگر فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ ! ہم تیرے جیسے بزرگ شان والے انسان سے یہ امید نہیں کرتے کہ تو بزدلی والا صبر کریگا بلکہ وَلِرَبِّكَ فَا صبر تو وہاں صبر کر جہاں تجھے نظر آتا ہو کہ میرا یہاں صبر کرنا خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہوگا یہ نہیں کہ اس لئے صبر کرو کہ اگر میں نے صبر نہ کیا تو ظالم ظلم میں بڑھ جائے گا یا میں اس کا مقابلہ کس طرح کر سکتا ہوں وہ طاقتور ہے اور میں کمزور ہوں تو صبر کریگا ہماری خوشنودی کے لئے اور ہمیں راضی کرنے کے لئے۔دوسرے معنے صبر کے ایک کام پر لگ جانے کے ہیں ۵۷، پس اس کے معنے یہ ہونگے کہ آج سے دوسرے سب کام چھوڑ کر تو صرف اپنے رب کی خدمت میں لگ جا۔اب دیکھو یہ دربار کیسا شاندار ہے گورنر جنرل کے تقرر پر دربار خاص لگتا ہے، گورنر جنرل پیش ہوتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ہم خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ تقر ر عہدہ کے وقت سے (جو سورۃ اقراء میں ہے ) تم وردی پہن کر اور گھوڑا لے کر کھڑے ہو کہ حکم ملتے ہی تم کام کے لئے نکل کھڑے ہو گے اب ہم ہمیشہ کے لئے یہ عہدہ تمہارے سُپر د کرتے ہیں ، کوئی ماں کا بچہ ایسا نہیں جو تم کو اِس عہدہ سے الگ کر سکے ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ عہدہ تمہارے سپرد کیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا نا تمہارا فرض ہوگا کمزور کو بیدار کرنا تمہارے ذمہ ہوگا اور اپنے رب کی سچی شان کو قائم کرنا تمہارا کام ہو گا اور سب سے پہلے یہ کام اپنے اہل و عیال اور اپنے دوستوں اور اپنی قوم کے لوگوں سے شروع کر۔پھر دائرہ وسیع کرتا چلا جا اور لباس اور جسم اور دماغ اور دل اور مکان اور ملک