انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 560

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶۰ سیر روحانی (۶) بھلے مشرکوں کو قتل کرنے یا ان کی آزادی اب ہمارے نقطہ نگاہ سے اس کے یہ معنے بن جائیں گے کہ اے محمد رسول اللہ ! یر یا بندیاں عائد کرنے کی ممانعت ہم نے تجھے شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے پہلے حکم آچکا ہے کہ وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ شرک کو مٹا دیے۔پس ہم نے شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے لیکن اس سے ایک غلط نہی بھی ہو سکتی ہے ہم اس غلط نہی کی تشریح کر دیتے ہیں کہ کہیں تم یا تمہارے مُرید اس حکم کے یہ معنے نہ کرلو کہ مشرکوں کو مارو اور اُن کی آزادی پر پابندی عائد کرو اور اس طرح اسلام کو ترقی دو۔کیونکہ مٹانے کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جس طرح وہ کہتے ہیں کہ جو مسلمان ہیں ان کو خوب مارو، ان پر خوب سختی کرو، انہیں خوب ذلیل کرو اسی طرح جو لوگ تم سے اختلاف عقیدہ رکھتے ہیں تم بھی ان سے یہی سلوک کرنے لگ جاؤ۔خدا تعالیٰ نے سمجھایا کہ مسلمانوں کے دماغ بھی کبھی خراب ہو سکتے ہیں اور ایسا ہوسکتا ہے کہ مسلمان بھی غیر مسلموں پر سختی کرنے لگ جائیں اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم نے یہ حکم دیا ہے کہ شرک کو مٹا دے تو ہمارا یہ مطلب نہیں کہ تم مشرکوں پر پابندیاں عائد کرو یا مشرکوں کو قتل کرو یہ اسلام میں منع ہے پس اس جگہ من کے معنے روکنے اور کاٹنے کے ہیں فَلَا تَمُنُنُ پس مت کاٹ وہ شرک جس کے متعلق ہم نے کہا ہے کہ اسے مٹا دے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو مشرکوں کو مارنے لگ جائے اور اس طرح تَسْتَكْثِرُ مسلمانوں کی جمعیت اور ان کی شوکت کو بڑھا دے۔پس اس جگہ آدمی بڑھانے کا ذکر ہے روپیہ بڑھانے کا ذکر نہیں یعنی مشرکوں کو مت کاٹ ، مشرکوں پر قیود مت لگا اس طرح سے کہ مسلمانوں کی طاقت بڑھے اور مسلمان زیادہ ہو جائیں۔ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ تبلیغ رکھی ہے، ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ روحانی تعلیمات رکھی ہیں ، ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق رکھے ہیں ان ذرائع سے اسلام کو بڑھاؤ ، مشرکوں پر پابندیاں لگا کر یا ان کو مار کر یا ان پر قید میں لگا لگا کر اسلام بڑھانے کا حکم نہیں دیا۔اب دیکھو یہ معنے کتنے اعلیٰ اور اسلام کی خوبی ثابت ا کرنے والے ہیں۔