انوارالعلوم (جلد 22) — Page 556
انوار العلوم جلد ۲۲ سیر روحانی (۶) نہیں دیتی۔جیسے جنگل میں کہیں گندہ بیج پڑ جائے تو وہ مٹتا نہیں بلکہ پھیل جاتا ہے لیکن اگر کوئی اعلیٰ درجہ کی کھیتی ہو تو زمیندار جانتا ہے کہ اس میں بھی بعض دفعہ دب گھاس نکل آئے گی ، بعض دفعہ تھوہر میں نکل آئیں گی، بعض دفعہ بکولیاں پیدا ہو جائیں گی ، بعض دفعہ آک نکل آئے گا۔اُس وقت ضرر سے بچنے کا کیا طریق ہوتا ہے؟ یہی ہوتا ہے کہ زمیندار ہل چلاتے ہیں بیشک وہ پھر بھی نکلتی ہیں لیکن کمزور ہو جاتی ہیں اور کھیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔پس تم ایسے مبلغ مقرر کرتے رہو اور مسلمانوں میں سے ایک ایسی جماعت کو مخصوص کرو جو دین کی خدمت میں لگی رہے جس کی وجہ سے اس قسم کے شرر آمیز اور نقصان دہ مادوں کاہل کے ساتھ قلع قمع ہوتا رہے بیشک شتر کا بیج پھر بھی موجود رہے گا لیکن وہ کمزور ہو جائے گا اور اصل فصل کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔مسلمانوں کا تبلیغ اسلام سے تغافل مسلمانوں نے اس پر ایک زمانہ میں عمل کیا لیکن افسوس ہے کہ بعد میں مسلمان اپنے اس فرض کو بُھول گئے اب صرف احمدی جماعت ہی ہے جو ہل چلا چلا کر دب، گھاسوں اور جڑی بوٹیوں کو دور کر رہی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے فائدہ کے لئے یہ کام ہو رہا ہے وہ اسی کا نام انکارِ جہا د رکھتے ہیں، اصل جہاد احمدی کر رہے ہیں اور مولوی کہتا ہے کہ چھوڑ دو یہ ہل چلانے آگ نکلنے دو، تھوہریں نکلنے دو، بکولیاں پیدا ہونے دو، کھیتوں کو برباد ہونے دو، مسلمانوں کو بھو کا مرنے دو، تم تو بے ایمان ہو گئے ہو جو مسلمانوں کے لئے روٹی مہیا کر رہے ہو۔وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ کی تشریح آگے فرماتا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ غیر احمدی مولوی اس کے یہ معنے کرتا ہے کہ لوگوں پر اس نیت سے احسان نہ کر کہ تجھے اس کے بدلہ میں کچھ زیادہ ملے۔اسی کا ترجمہ میں نے پہلے یہ کر دیا تھا کہ سو دخوری نہ کر۔لوگوں کو اس لئے پیسے نہ دیا کر کہ اس کے بدلے میں تجھے زیادہ ملے لیکن دوسری شکل ہمارے ملک میں ایک اور بھی ہوتی ہے جسے