انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 32

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۲ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو اور جب کوئی اور نام لو گے تو وہ تمہاری تکذیب کریگا۔تم اپنی بیوی، بیٹے ، ماں باپ اور بھائی کے سامنے بھی کوئی اور نام لے کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کرو گے تو وہ تمہاری تکذیب کریں گے۔تم اگر اپنے بچہ کے سامنے بھی اس پہاڑی کے متعلق یہ کہو گے کہ کراچی سے ایک خادم آیا ہے اور وہ پہرہ دے رہا ہے تو وہ کہے گا باپ مذاق کر رہا ہے۔تم اگر زیادہ زور دو گے تو ہو سکتا ہے وہ مان جائیں اور کہیں زیادہ نہ چڑاؤ کہیں جنون بڑھ نہ جائے۔پس راست بازی باہر سے نہیں آتی بلکہ انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔باہر سے اسے مٹایا جاتا ہے۔مثلاً تم اپنے کسی دوست سے مذاق کرنا چاہتے ہو۔تم ایک بانس کی پر شلوار اور قمیص لٹکا کر کہو گے کہ یہ آدمی کھڑا ہے تو یہ بات باہر سے پیدا ہوئی ہے۔تمہارا دل یہ کہ رہا ہوگا کہ یہ ایک بانس ہے اور اس پر شلوار اور قمیص انکائی ہوئی ہے۔راست بازی جہاں ایک فطری اور طبعی خلق ہے وہاں دین کو بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ راست بازی چھوڑ کر تم آدمیت کے دائرہ سے نکل جاتے ہو کیونکہ آدمی نام ہے دل کا۔آدمی اس فیصلہ کا نام نہیں جو تم طبعی حالات میں کرتے ہو۔آدمی نام ہے اُن صحیح جذبات اور صحیح افکار کا جو انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔آدمی نام ہے صحیح عزائم اور صحیح ارادوں کا جو انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔جب صحیح جذبات صحیح افکار اور صحیح عزائم اور صحیح ارادوں کے خلاف تمہاری ظاہری اغراض اور خارجی ضرورتیں تمہیں کوئی اور بات کہنے پر مجبور کرتی ہیں تو وہ غیر طبعی چیز بن جاتی ہے راست بازی نہیں رہتی۔مگر جہاں آکر آدمیت کا تعلق ہوتا ہے تم اُسے کچل رہے ہوتے ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی راست بازی کی مذہب کو بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ مذہب خود ایک سچائی ہے۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا ایک نام حق بھی ہے یعنی خدا تعالیٰ ایک ایسی چیز ہے جو خلاف واقعہ نہیں بلکہ وہ اُسی طرح ہے جس طرح کہا گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ وہ بات کہتا ہے جو راست ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ پہاڑ کو دریا نہیں کہتا اور نہ دریا کو پہاڑ کہتا ہے وہ پہاڑ کو پہاڑ اور دریا کو دریا کہتا ہے۔وہ آدمی کو جنگل نہیں کہتا اور نہ جنگل کو آدمی کہتا ہے۔وہ آدمی کو آدمی اور جنگل کو جنگل کہتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر آنے والی چیز راست اور