انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 537

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۷ سیر روحانی (۶) وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا مگر جب وہ تبلیغ کرنے کے لئے نکلا تو ہم نے کہا ٹھہر جا ٹھہر جا کپڑے دھولے تیرے کپڑے بہت میلے ہیں۔لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ تبلیغ بھی رہ گئی۔گویا محمد رسول اللہ علیہ وسلم جیسا پاکیزہ نفس انسان جن کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایسا ہے کہ اگر اس پر خدائی نور نہ بھی گرتا تب بھی یہ روشن نظر آتا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے بغیر بھی پاکیزہ تھے اس مقدس انسان کے متعلق یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جیسے کوئی پہاڑی گڈریا ہوتا ہے کہ مہینوں اُس کو کپڑے دھونے کی توفیق نہیں ملتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل بھی نَعُوذُ باللهِ ویسی ہی تھی۔پہلے تبلیغ کا علم دیا پھر خیال آیا کہ بڑی شرمندگی ہو گی لوگوں کو خیال آئے گا کہ کیسے آدمی کو بھیج دیا اس لئے کہہ دیا کہ کپڑے دھو لے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رشتہ داروں اب ہم بتاتے ہیں کہ اس کے کیا معنے ہیں۔لیکن میں یہ اور دوستوں کو تبلیغ کرنے کا ارشاد بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ خالص میرے معنے نہیں بلکہ بعض پہلے صوفیاء نے بھی اس حصہ کے یہ معنے لکھے ہیں پہلے نہیں لکھے لیکن یہ معنے لکھے ہیں تیاب عربی زبان میں لغةً تو کپڑوں اور دل کو کہتے ہیں۔اسے لیکن محاورہ میں شیاب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے، اس کے عیب چھپتے ہیں اور وہ اس کے گرد لپٹے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کپڑا لپیٹتا ہے۔پس استعارہ اور مجاز کے طور پر جیسے لوگ کہتے ہیں فلاں سکندر ہے ، حاتم ہے مجازاً اور استعارہ ثیاب کے معنے ، دوست ، رشتہ دار اور قریبی لوگوں کے ہوتے ہیں اور لغةً اس کے معنے کپڑے اور دل کے ہیں۔دل کے معنے میں اس جگہ نہیں لگا تا لیکن میں کہتا ہوں کہ جو معنے بھی لگا و سیاق وسباق کو مدنظر رکھو۔میرے نزدیک سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے جو معنے بنتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ! تو پہلے اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو سمجھا، پھر اپنے قریبی دوستوں کو سمجھا ، پھر اپنی قوم والوں کو سمجھا اور ان کو دین اسلام کی تعلیم کی طرف لا۔اب