انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 536

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۶ سیر روحانی (۶) ہے محض بے جوڑ معنے ہیں جن کا پہلی آیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔لیکن میں نے جو معنے کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے ہونے والے! اے حکم ملتے ہی گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر دنیا میں دوڑ جانیوالے ! اب ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا کا پیغام پہنچانا تیرے سپرد کیا گیا ہے تو دنیا کو بتا کہ اگر مانو گے تو بچو گے نہیں مانو گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔ثِيَا بَكَ فَطَهِّرُ چوتی آیت ہے وَثِيَا بَكَ فَطَهِّرُ۔مولوی اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ اپنے کپڑے پاک کر۔وہ کہتے ہیں نماز کی مضحکہ خیز تفسیر جو پڑھنی تھی کپڑے پاک کرنا ضروری تھا گو یا صرف نماز کے لئے کپڑے صاف کئے جاتے ہیں۔انگریزوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے، امریکنوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے جب سے نماز شروع ہوئی ہے اُس وقت سے کپڑے پاک رکھے جانے شروع ہوئے ہیں۔دوسرے الفاظ میں اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ان کے نزدیک پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صفائی کی طرف کوئی رغبت نہیں تھی نماز کا حکم آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کپڑے صاف رکھو۔پھر سوچو کہ ان آیات کا آپس میں جوڑ کیا ہوا ؟ پہلے معنے کئے اوسونے والے اُٹھ ! پھر کہا اُٹھ اور دنیا میں جا کر انذار کر۔پھر ساتھ ہی کہہ دیا جا اور کپڑے دھو۔اب وہ کپڑے دھوئے کہ انذار کرے۔دونوں میں جوڑ کیا ہو !؟ اب یہ مولوی فیصلہ کر لیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ؟ کپڑے دھونے لگتے تھے یا باہر جا کر تبلیغ کرتے تھے ؟ غرض ایسی بے جوڑ باتیں کرتے ہیں اور اس قسم کی ہتک آمیز باتیں کرتے ہیں کہ در حقیقت اگر وہ غور کریں تو ان کو معلوم ہو کہ اسلام کے ساتھ ان باتوں کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ایسی ایسی غیر معقول باتیں کرتے ہیں کہ ہر بُری بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔بھلا کوئی سمجھائے کہ درثيابك فطر کا اس جگہ جوڑ کیا بنتا ہے۔اگر پہلی آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے کمبل لے کر سونے والے ! تو یہ اگلے معنے نہیں لگتے کہ اُٹھ اور دنیا میں شور مچا دے۔کمبل لے کر سونے والے نے شور کیا مچانا ہے وہ تو پھر سو جائے گا۔مگر تھوڑی دیر کے لئے یہ بھی مان لیا کہ اُسے ہلا یا، پانی کے چھینٹے دیئے اور