انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 535

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۵ سیر روحانی (۶) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تقرر کے لئے منعقد ہو ا۔پیچھے مایوسی ہو جائے تو اور بات ہے لیکن یہاں تو ابتداء میں ہی نَعُوذُ بِاللہ گالیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ اوسونے والے! تیری کام کی طرف توجہ ہی نہیں، میل سے بھرا ہوا ہے اُٹھ ! اور تیار ہو اور اپنے کام کی طرف جا اور ہر قسم کے سستی اور شرک وغیرہ کو چھوڑ۔قمْ فَانْذِرُ کی تشریح آگے آتا ہے تم فانذر اس کے معنے وہ یہ کرتے ہیں کہ کھڑا ہو جا اور انذار کر۔حالانکہ جو کمبل لے کر سویا پڑا ہے اُس کے سپر دکوئی عظمند کام ہی کیوں کرے گا۔وہ تو کہے گا کہ اگر وہ سو یا ہو ا ہے تو سویا ہی رہے تم نا نذر کے الفاظ تو بتا رہے ہیں کہ جس کے سپر د کام کیا جاتا ہے وہ اپنے اندر کوئی شان رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی عزم رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی پختہ ارادہ رکھتا ہے۔وہ قسم کا لفظ لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے معنے کھڑے ہو جانے کے ہیں حالانکہ جس طرح مدثر کے دو معنے ہیں اسی طرح عربی زبان میں قسم کے بھی دو معنے ہیں۔قسم کے معنے کھڑے ہونے کے بھی ہیں اور قسم کے معنے کسی بات پر ہمیشہ کے لئے قائم ہو جانے کے بھی ہیں۔انہوں نے پہلے لمبل کے معنے کئے پھر کہا اوسونے والے! کھڑا ہو جا۔ہم نے یہ معنے کئے ہیں کہ اے وہ شخص جو عہدہ کے مطابق وردی پہنے تیار کھڑا ہے کہ حکم ملتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے کام پر چلا جاؤں قسم ہمیشہ کے لئے اپنے کام پر لگ جا اور کبھی بھی اپنے کام میں سستی مت دکھا ئیو اور کبھی بھی اپنے کام سے غفلت مت کیجیؤ - فانذر اب ہمیشہ ہمیش کے لئے انذار کا مقام اور نبوت کا کام تیرے سپر د کر دیا گیا ہے اب کوئی پنشن نہیں ، کوئی چھٹی نہیں ، ساری عمر کے لئے یہ کام تیرے سپرد کر دیا گیا ہے۔رَبَّكَ فَكَبّر کا تیسری آیت ہے وربِّكَ فَحَبر اور اپنے رب کی بڑائی کا دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ۔اب اس آیت کو ذرا پہلی آیت پہلی آیات سے تعلق سے ملاؤ کہ ارے سوئے ہوئے ! ارے کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے ! ارے نیند کے ماتے اُٹھ ! ڈھنڈورا پیٹ۔بھلا نیند والے نے کیا ڈھنڈورا پیٹنا