انوارالعلوم (جلد 22) — Page 527
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۲۷ سیر روحانی (۶) آیا۔فکان قاب قوسین او ادنی اور اُس نے اُتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تجھے اپنا گورنر بنانا چاہتے ہیں مگر ہماری گورنری ایسی نہیں ہوتی جیسی دنیا کی گورنریاں ہوتی ہیں ہم تجھے گورنر بھی بنانا چاہتے ہیں اور اپنا دوست بھی بنانا چاہتے ہیں۔اب ہم دونوں کی قومیں ایک ہوگئی ہیں۔اے محمد ! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کچھ تیرے بھی دشمن ہوں گے اور کچھ میرے بھی دشمن ہونگے آخر ہر ایک کے دشمن ہوتے ہیں کچھ میرے بھی دشمن ہیں یعنی تو حید کے منکر اور کچھ تیرے بھی دشمن ہیں یعنی انسانیت اور اخلاق اور شرافت کے دشمن۔تجھے بھی ضرورت ہے ان پر تیر چلانے کی اور مجھے بھی ضرورت ہے اپنے دشمنوں پر تیر چلانے کی۔پس آ! ہم دوست بنتے ہیں اب ہم دونوں اپنی کمانیں جوڑ لیتے ہیں اور ان دونوں کمانوں کا ایک ہی وتر ہوگا یعنی وہ تار جو کمان میں ہوتی ہے ایک ہوگی اور پھر تیرا تیر بھی اور میرا تیر بھی اکٹھا ایک ہی طرف چلے گا ، یہ کتنی دوستی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اظہار فرمایا۔پھر فرماتا ہے فكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدنی - مقام محمدیت کی بلندی آؤ عربی زبان میں یا کے معنے بھی دیتا ہے اور ترقی کے معنی بھی دیتا ہے گویا پہلے تو تیرا تیر بھی اور میرا تیر بھی ایک طرف چلتا تھا مگر پھر اس سے بھی ترقی ہوئی اور وہ ترقی یہ ہے کہ پہلے تو دو قوسیں تھیں اور دشمن بھی دو ہی تھے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن اور خدا کا دشمن۔بیشک تیرا کٹھا چلتا تھا مگر دشمن دو تھے پھر وہ دونوں ایک ہو گئے یعنی قوسیں بھی ایک بن گئیں اور ہاتھ بھی ایک بن گیا تیر بھی ایک بن گیا اور دشمن بھی ایک بن گیا۔اسی کی طرف دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ ما دمیت اذ رميت ولكن الله رفی = " یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اور تُو دونوں اس طرح اکٹھے ہو چکے ہیں کہ تو نے جو بدر کی جنگ میں پتھر پھینکے تھے وہ تو نے نہیں پھینکے بلکہ ہمارا ہاتھ تھا جو ان کو پھینک رہا تھا۔گویا پہلا اتحاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا کے درمیان یہ ہوا کہ دو قوسوں سے ایک تیر چلنا شروع ہوا اور پھر