انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 523

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۲۳ سیر روحانی (۶) کرنے کے لئے اس وجود کو مقرر فرما۔گویا ملائکہ کے جہاں اور کام ہیں وہاں جیسے فون میں تم نے دیکھا ہو گا کہ جب کسی کو فون کیا جاتا ہے تو درمیان میں کنٹیکٹ (CONTACT) کرنے والے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ کنکشن کو فون کرنے والے کے ریسیور (RECEIVER) سے ملا دیتے ہیں جس سے دونوں کا آپس میں تعلق قائم ہو جاتا ہے اسی طرح قرآن کریم کی ان آیتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک واسطہ ہے اور اس کنکشن بورڈ (CONNECTION BOARD) کا نام ملا اعلیٰ ہے۔خدا تعالیٰ جب کوئی بات بندوں تک پہنچانا چاہتا ہے تو بخاری میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ پہلے وہ بات جبرئیل کو بتاتا ہے پھر وہ نچلے فرشتوں کو بتاتا ہے ، پھر وہ اس سے نچلے فرشتوں کو بتاتے ہیں یہاں تک کہ وہ زمین تک پہنچ جاتی ہے گویا خدا جب کوئی بات دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے تو پہلے وہ ملا اعلیٰ کو بتاتا ہے۔اسی طرح زمین سے آسمان پر جب کوئی بات جاتی ہے تو پہلے وہ ملا اعلیٰ میں جاتی ہے اور پھر وہ خدا کے سامنے پیش ہو کر آخری فیصلہ ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کا انتخاب ہمیشہ اسی نکتہ سے ہم کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یونہی اندھا دھند نبی قابلیت کی بناء پر ہوتا ہے بنادیتا ہے یہ بات غلط ہے۔بعض لوگ کہتے ہی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نعوذ باللہ خدا عاشق ہو گیا تھا۔پنجابی شعر پڑھو تو ان میں یہی مضمون ہوتا ہے کہ ” او کملی والیا تیرے تے رب عاشق ہو گیا۔حالانکہ قرآن یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں جب خرابی پیدا ہوتی ہے تو فرشتے انسانی روحوں کے ساتھ چھونا شروع کرتے ہیں اور چُھو کر محسوس کرتے ہیں کہ کس روح میں کیا قابلیت ہے؟ پھر وہ مختلف اثرات لے کر ریکارڈ روم میں جمع ہوتے ہیں اور اس میں ان کی توجہ ایک روح کی طرف مرکوز ہوتی چلی جاتی ہے اور آخر تمام روحوں میں سے جو مکمل روح انہیں نظر آتی ہے اُس کے پچھنے جانے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور ایک وجود پر ان کا اتحاد ہو جاتا ہے کہ یہ روح ہے جس سے ہماری روحیں ملتی جلتی ہیں۔جب وہ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو