انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 489

انوار العلوم جلد ۲۲ جائز ہے ورنہ بغیر جنگ کے ناجائز۔۴۸۹ چشمہ ہدایت (۵) پھر فرمایا ہے۔وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا الله عدوا بغير علم، ۲۶ جن لوگوں کو یہ خدا کے ہوا معبود بناتے ہیں وہ خواہ اُن کو خدا بنا دیتے ہیں تب بھی تم ان کو گالیاں مت دو ورنہ وہ تمہارے خدا کو بُرا بھلا کہنے لگ جائیں گے۔یہ اصول جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔عقل بھی یہی کہتی ہے کہ کسی کا عقیدہ جھوٹ ہو یا سیچ اکثریت اپنے نزدیک اسے ویسا ہی سچا سمجھتی ہے جیسے اسلام کی اکثریت اپنے مذہب کو سچا سمجھتی ہے۔عیسائیت جھوٹی ہے مگر سوال یہ ہے کہ دنیا کا اکثر عیسائی، عیسائیت کو کیا سمجھتا ہے؟ سچا سمجھتا ہے۔ہندو مذہب جھوٹا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ دنیا کا اکثر ہندو اپنے مذہب کو کیا سمجھتا ہے؟ سچا سمجھتا ہے۔یہودی مذہب یقیناً جھوٹا ہے۔میں جھوٹے کا لفظ بولتا ہوں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس زمانہ میں وہ مذہب ختم ہو چکا ہے ورنہ ابتداء کے لحاظ سے نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہودیوں کا اکثر حصہ یہودیت کو کیا سمجھتا ہے؟ سچا سمجھتا ہے۔اگر اس بات پر کسی کو قتل کرنا جائز ہے، اس بات پر کسی کو لوٹ لینا جائز ہے، اس بات پر کسی کو مار دینا جائز ہے کہ میں سمجھتا ہوں میرا مذہب سچا ہے تو پھر عیسائیت کو کیوں یہ حق حاصل نہیں۔چھ سو سال تک عیسائیت نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا ہے اب بھی اُس کو غلبہ حاصل ہے۔اگر عیسائیت انسانیت کو چھوڑ دے، اگر روس کا کانٹا اُس کے اندر سے نکل جائے تو آج بھی عیسائی مسلمان ملکوں کو تباہ کر سکتا ہے لیکن وہ نہیں کرتا۔اس لئے کہ اُس نے اپنے جھوٹے مذہب میں بھی اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ مذہب کی خاطر کسی کو نہیں مارنا۔پہلے کرتے رہے ہیں سارا فلپائن مسلمان تھا۔اسے عیسائی کر لیا گیا گوان کو انہوں نے عیسائی بنالیا لیکن اب وہ نہیں کرتے۔پس اگر یہ عقیدہ درست ہو کہ جب ایک قوم کی اکثریت ہو اور اکثریت کو کسی اقلیت سے اختلاف ہو تو اُس کا حق ہے کہ وہ زبر دستی دوسروں سے اُن کا مذہب بدلوائے ، انہیں مارے پیٹے تو پھر عیسائی کو یہ کیوں حق حاصل نہیں ؟ ہندؤوں کو کیوں یہ حق حاصل نہیں کہ ہندوستان میں مسلمان کو ہندو بنالیں۔چین میں کنفیوشس مذہب کے پیرووں