انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 488

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۸ چشمہ ہدایت کے حملہ کا جواب دو۔اگر وہ تمہارے آدمیوں کو جنگ میں پکڑ کر غلام بنا تا ہو تو تم بھی اُس کے آدمیوں کو پکڑ کر غلام بنانے کے حقدار ہو لیکن بغیر جنگ کے وہ غلام بنا تا ہو تب تم اُس کی نقل نہ کرو کہ بغیر جنگ کے غلام بنا لو کیونکہ جنگ کی ذمہ داری قوم پر ہوتی ہے۔اس لئے اگر جنگ کے نتیجہ میں کوئی فعل خراب نکلتا ہے تو قوم جواب دہ ہے، لیکن اگر فرد کے کسی فعل کے نتیجہ میں کام خراب ہوتا ہے تو قوم جواب دہ نہیں ہوسکتی۔پس اگر جنگ کے نتیجہ میں وہ تمہارے آدمیوں کو پکڑ کر غلام بنا لیتے ہیں تو تم بھی بنالو، لیکن اگر فرد تمہارے آدمی کو پکڑ کر لے جاتا ہے تو تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم اُس کے آدمی پکڑ کر لے آؤ کیونکہ وہ ایک فرد کا فعل ہے۔اختلاف مذاہب یا عقیدہ پر چڑ نا درست نہیں کہ حریت انسان کا پیدائشی حق ہے۔سمجھانا اور تبلیغ کرنا تمہارا کام ہے لڑنا اور فساد کرنا تمہارا کام نہیں۔اسی طرح فرمایا غیر قوموں کے بزرگوں کو گالیاں دینا تمہارا کام نہیں تمہارا فرض ہے کہ اُن کا ادب اور احترام کرو۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ آیتیں موجود ہیں : - (1) وَلا تُمْسِكُوا بعصم الكوافر ۲۲ یعنی کا فرعورتوں کے ننگ و ناموس کو اپنے قبضہ میں نہ رکھو۔اس میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ غیر قوم کا حق مارنا جائز نہیں۔بے شک وہ کافر ہوں گی۔لیکن بوجہ کا فر ہونے کے انہیں قتل نہیں کرنا بلکہ آرام سے انہیں اپنے کا فرماں باپ کے پاس ان کے گھر پہنچا دینا۔(۲) پھر فرماتا ہے۔لا اكراة في الدين قد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيّ : ٢٣ دين میں کوئی جبر نہیں چاہے تمہارے خلاف ہی کو ئی شخص عقیدہ رکھنا چاہے تو وہ رکھ سکتا ہے۔(۳) پھر فرمایا ہے۔اذن لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا، ۲۴ جن کے ساتھ لڑائی کی جاتی ہے اُن کو اجازت ہے کہ وہ لڑیں۔دوسرے جن کے ساتھ لڑائی نہیں کی جاتی اُن کو اجازت نہیں۔-۴- پھر فرمایا ہے۔مَا كَانَ لِنَبِي آن يَكُونَ لَه آشرى حَتَّى يُنْخِنَ فِي الأَرْضِ ۲۵ بغیر خطر ناک جنگ کے غلام بنانا جائز نہیں ، جنگ ہو اور سخت جنگ ہو اس کے بعد غلام بنانا