انوارالعلوم (جلد 22) — Page 481
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۱ چشمہ ہدایت معشوق سے ملنے کے کبھی تسلی نہیں پاسکتے۔اگر تم اپنے کسی محبوب کے پاس جاؤ اور اس کے پاس گھنٹوں بیٹھے رہو مگر وہ تم سے بات تک نہ کرے اور تمہاری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھے تو اپنے ایمان سے کہو کہ تم وہاں سے روتے ہوئے آؤ گے یا ہنستے ہوئے آؤ گے؟ وہ تم سے بولتا ہے تو تمہارا دل خوش ہوتا ہے اور اگر بات نہیں کرتا تو تم پر موت آجاتی ہے۔پس جذبات صحیحہ بھی اسی اصول کی تائید کرتے ہیں وہ شخص جو یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ خدا نہیں بولتا وہ اگر یہ کہتا ہے کہ میں خدا سے محبت کرتا ہوں تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ایک گونگے سے انسان پھر بھی محبت کر سکتا ہے کیونکہ سمجھتا ہے کہ اس کی زبان نہیں لیکن اگر زبان ہوا اور پھر بھی کوئی شخص نہ بولے تو اس سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔پانچویں بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کی وہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے مگر غیر احمدیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن میں جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مگر اس کی بہت سی آیتیں منسوخ ہیں یعنی وہ قرآن میں تو لکھی ہوئی ہیں مگر واجب العمل نہیں۔پھر وہ کہتے ہیں اس کے مطالب بہت محدود ہیں۔امام رازی تک تو اس کے علوم کا انکشاف ہوتا رہا مگر اس کے بعد اس کے روحانی معارف کا انکشاف لوگوں پر بند ہو گیا۔گویا قرآن اس چشمہ کی مانند ہے جو خشک ہو چکا ہے یا نعوذ باللہ وہ ایک اندھا کنواں ہے جولوگوں کی تشنگی کو فرو کرنے کے لئے اپنے اندر پانی کا ذخیرہ نہیں رکھتا کسی زمانہ میں تو لوگ اس قرآنی چشمہ سے سیراب ہوتے تھے اور اس آسمانی کنوئیں سے اپنی پیاس بجھاتے تھے لیکن اب وہ اس قرآن سے نئے معارف اور نئے حقائق اور نئے علوم حاصل نہیں کر سکتے۔یہ سلسلہ انکشاف صرف امام رازی تک جاری رہا ہے اس کے بعد یہ کان ختم ہو گئی اور اب اس میں سے کوئی نئی دولت حاصل نہیں کی جاسکتی۔پھر وہ کہتے ہیں قرآن ہے تو خدا کی کتاب مگر یہ خدا سے ملا نہیں سکتی۔تعلق باللہ پیدا کرنا جو ہر الہی کتاب کا خاصہ ہو ا کرتا ہے وہ کام اب قرآن سے نہیں لیا جا سکتا ہے۔حالانکہ اگر یہ کتاب تعلق باللہ والا کام نہیں کرتی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ قیامت تک کے -