انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 480

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۰ چشمہ ہدایت پُرانے بزرگوں نے اس پیغام کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے وحی کی بجائے الہام کہنا شروع کر دیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اُن کا لحاظ کرتے ہوئے اسے الہام ہی قرار دیا ور نہ وحی اور الہام میں کوئی فرق نہیں۔بہر حال نام کچھ رکھ لو واقعہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے اور ان پر اپنی مرضی کو ظاہر فرماتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو دعویٰ فرمایا وہ بے ثبوت نہیں بلکہ نقل اس کی تائید میں ہے۔پھر حدیثیوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَات _ یعنی اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں اور مبشرات اسی کو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بشارت دے اور اُن سے ہمکلام ہو۔پھر عقل بھی یہی کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے الہام کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہنا چاہئے کیونکہ بولنا اور کلام کرنا اُس کی صفت ہے اور جب خدا تعالیٰ کی اور تمام صفات کام کر رہی ہیں تو کلام کرنے کی صفت اُس کی کیوں باطل ہوگئی۔جب لوگوں سے پوچھا جائے کہ کیوں جی اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا ہے؟ تو کہیں گے جی ہاں کیوں نہیں سنتا وہ سمیع الدعاء ہے۔پوچھا جائے کیا خدا دیکھتا ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں خدا بصیر ہے۔پوچھا جائے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں ان اللہ تعالیٰ گُل شَيءٍ قدير 10 اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔پھر پوچھا جائے کیا خدا بات کرتا ہے؟ کہیں گے نہیں جی کسی پُرانے زمانہ میں وہ بات کیا کرتا تھا اب تو نہیں کرتا۔گویا اللہ تعالیٰ کی ننانوے صفات جو بیان کی جاتی ہیں اُن میں سے تو سب صفات سلامت ہیں ایک بولنے والی صفات میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی ہے۔گویا اُس کی زبان کے نروز Nerves) نعوذ باللہ مفلوج ہو گئے ہیں اور اب وہ اپنے بندوں سے کلام نہیں کر سکتا۔دنیا میں تو گونگا بھی اشارے کر لیتا ہے مگر اس زمانہ میں لوگ جس خدا کو پیش کرتے ہیں وہ اشارے بھی نہیں کر سکتا۔پھر جذ بات صحیحہ کو لوتو وہ بھی اس کی تائید کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کو جو تعلق ہے اس کی بنیاد محض محبت پر ہے اور جذبات محبت پر ہے اور جذبات محبت بغیر