انوارالعلوم (جلد 22) — Page 453
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۳ چشمہ ہدایت بنا کر مجلس سے اٹھے اور کہنے لگے ” چنگا مولوی صاحب ! جے ایہہ گل ہے تو پھر جدھر قرآن اُدھر میں۔اور یہ کہہ کر وہ قادیان آئے اور اُنہوں نے بیعت کر لی۔تو حقیقت یہ ہے کہ جب کسی شخص کو یقین ہوتا ہے نقل پر تو اُس کو اگر حوالہ دیا جائے تو وہ متزلزل ہو جاتا ہے۔دوسری چیز متزلزل کرنے والی عقل ہوتی ہے۔عقل کا مادہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں پیدا کیا ہے اور عقل سے انسان روزانہ فیصلے کرتا ہے۔اگر کسی شخص کی سمجھ میں آ جائے کہ عقل یوں کہتی ہے تو وہ بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔تیسری چیز انسان کو متزلزل کرنے والی جذبات صحیحہ ہوتے ہیں۔بے شک عقل بھی کام دیتی ہے اور نقل بھی کام دیتی ہے۔لیکن اگر فطرت کوئی بات کہتی ہو تو جس کو نہ قرآن کا پتہ ہو نہ حدیث کا پتہ ہو، پہاڑوں میں رہنے والا ہو وہ بھی کہہ دے گا کہ بات درست ہے۔مثلاً بچے کی محبت یا بچہ کے لئے قربانی کیا کسی آیت کے تحت ہے یا حدیث کے ماتحت ہے؟ یہ محض فطرت کے ماتحت کی جاتی ہے۔اگر کسی کے جذبات انگیخت میں آجائیں اور اسے کہا جائے کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔کسی ماں کو کہا جائے کہ یہ بات تیرے ماں ہونے کے خلاف ہے۔کسی باپ کو یہ کہا جائے کہ یہ تیرے باپ ہونے کی حیثیت کے خلاف ہے تو وہ فوراً پرانے خیالات کو چھوڑ دے گا اور سمجھے گا کہ میں باپ ہوں جو چیز میرے باپ ہونے کے خلاف ہے اُس کو میں اختیار نہیں کرسکتا۔تو تین چیزیں ہیں جن سے کوئی چیز متزلزل ہوسکتی ہے۔نقل ، عقل اور جذبات صحیحہ۔جس چیز کی تائید میں نقل ، عقل اور جذبات صحیحہ ہوں اُس میں تزلزل کبھی نہیں آسکتا کیونکہ انہی تین چیزوں سے انسان بدلا جا تا ہے۔اگر یہ تینوں چیزیں اس کی تائید میں ہو جائیں تو پھر اسے متزلزل کرنے والی اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔اب ہمارے پاس دلیل آ گئی جس سے بغیر آگ میں ڈالے جانے کے، بغیر آرے سے چیرے جانے کے ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اندر ایمان موجود ہے۔اگر ہمارے عقیدے عقل کے مطابق ہیں، نقل کے مطابق ہیں ، جذبات صحیحہ کے مطابق ہیں تو سیدھی