انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 437

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۷ چشمہ ہدایت احمدیت بہر حال ترقی کرے گی اس سال اللہ تعالی کے فضل سے جماعت کے تبلیغی مشنوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری تبلیغ میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور جماعت نے ترقی کی ہے۔جس مقام پر ہم آج ہیں یقینا گزشتہ سال وہ مقام ہمیں حاصل نہ تھا اور جس قسم کے تغیرات اس وقت رونما ہورہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جس مقام پر ہم آج ہیں آئندہ سال انشاء اللہ ہم اس سے یقیناً آگے ہوں گے۔یہ تغیرات نہ تمہارے اختیار میں ہیں نہ میرے یہ خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔بس انسانی تدابیر کو نہ دیکھو بلکہ خدائی تقدیر کی اُنگلی کو دیکھو جو یہ بتا رہی ہے کہ حالات خواہ اچھے ہوں یا بُرے احمدیت کی گاڑی بہر حال چلتی چلی جائے گی۔انشاء اللہ ( نعرہ ہائے تکبیر ) ہم نے ربوہ کی زمین خرید کر یہاں مہاجرین کو آباد کرنے کے لئے مختلف قواعد بنائے تھے یقیناً ان قواعد کی رو سے ہم سو فیصدی سب کو خوش نہیں کر سکتے تھے چنانچہ جن دوستوں کو اس سے کچھ نقصان پہنچا ہے اُنہوں نے اس سلسلے میں بے چینی اور بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔یہ بے چینی دنیوی روح پر دلالت کرتی ہے گو ساتھ ہی زیر کی اور دانائی کی بھی علامت ہے لیکن محض دنیوی زیر کی اور دانائی کی۔میں ان دوستوں سے کہتا ہوں کہ تمہاری یہ بے چینی درست ہوتی بشر طیکہ تمہیں غیب کا علم ہوتا۔جب تمہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہمسایہ تمہارے لئے اچھا ہو گا اور کون سی جگہ تمہارے اور تمہارے اہل و عیال کی صحت کے لئے اچھی ہو گی تو پھر اس بے چینی کا کیا مطلب؟ تمہارے لئے تو ایک ہی محفوظ طریق ہے اور وہ یہ کہ جہاں تک ظاہری حالت کا تعلق۔بے شک ایک حد تک انہیں مد نظر رکھو لیکن اگر دوسرے بھائی سے اختلاف اور رنجش کی صورت ہو گئی ہے تو پھر استخارہ کرو اور معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔آخر تمہیں کیا پتہ کہ کونسا قطعہ تمہارے لئے اچھا ثابت ہو گا۔پس کیوں نہیں تم خدا تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ دیتے تا کہ اس کی مشیت میں جو تمہارے لئے بہتر ہے وہی ہو جائے۔ہے ایک اور بات جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے گزشتہ سالوں میں