انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 424

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۲۴ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۵۱ء وہ گر د محسوس نہیں ہوتی مگر میرے لئے وہ گرد بہت زیادہ تکلیف کے بڑھانے کا موجب ہو جاتی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ دوست گاڑی کے ساتھ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں یا ایسی طرز پر ارد گر دکھڑے ہوتے ہیں کہ اس سے گرد پڑتی ہے۔چونکہ آگے میرے دو بلکہ تین دن کام کے لحاظ سے نہایت بھاری ہیں۔گھنٹوں مجھے ملاقات بھی کرنی پڑے گی اور پھر مجھے اگر خدا نے توفیق دی تو گھنٹوں ہی تقریر بھی کرنی پڑے گی ان حالات کے لحاظ سے میرا بھی اور ان کا اپنا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ وہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی احتیاط سے کام لیں تا کہ اللہ تعالی آرام اور سہولت سے یہ دن ہمارے گزار دے اور ہمیں اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کسی قسم کی کوئی روک پیدا نہ ہو۔اس کے بعد میں دُعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس اجتماع کو مبارک کرے اور ہمیں اپنے فضلوں کا وارث بنائے اور ہمارے دلوں میں ایسا نور پیدا کرے جو کہ دُنیا کو روشن کر دے اور ہماری زبانوں میں وہ تاثیر بخشے جولوگوں کے لئے اطمینان پیدا کرنے کا موجب ہو اور ہماری غفلتوں اور سُستیوں اور مناقشا نہ طبیعت اور بدظنی کی طبیعت کو بدل کر بچے اور محنتی اور عقلمند کارکنوں والی طبیعت ہم کو عطا فرمائے تا کہ ہم نہ صرف یہ کہ آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہیں بلکہ بیرونی دُنیا کے فتنوں اور فسادوں کو دور کر کے ساری دُنیا میں ایک ایسا امن قائم کر دیں، ایک ایسا نظام قائم کر دیں جس کے ذریعہ سے دُنیا اُن آرام کے دنوں کو پھر دیکھ لے جن کے لئے وہ صدیوں سے ترس رہی ہے اور جن حالات کی وجہ سے بنی نوع انسان کا امن بالکل برباد ہو چکا ہے اور انسان اپنے خدا سے بدظن ہو گیا ہے۔پس آؤ اُس خدا سے دُعا کریں جس کے ہاتھ میں ساری طاقتیں ہیں اور جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے ، مایوسیوں کو امیدوں سے بدل دیتا ہے ،شکوک کو یقین سے تبدیل کر دیتا ہے۔(الفضل لا ہور یکم جنوری ۱۹۵۲ء) ا كنز العمال جلد ۴ صفحه ۳۶۱ مطبوعه حلب ۱۹۷۰ء الفاتحه: ۷،۶