انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 420

انوار العلوم جلد ۲۲ ا ۴۲۰ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۵۱ء 66 امتہ القدوس بیگم بنت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم سے اپنا نکاح منظور ہے۔“ دوسرا نکاح امتہ النصیر بیگم جو میری لڑکی اور سارہ بیگم مرحومہ کے بطن سے ہے اس کا ایک ہزار روپیہ مہر پر پیر معین الدین ولد پیر اکبر علی صاحب مرحوم سے قرار پایا ہے۔احباب کو معلوم ہو گا کہ میں اپنی لڑکیوں کا نکاح صرف واقفین زندگی سے کر رہا ہوں اور اس رشتہ میں بھی میرے لئے نہی کشش تھی کہ لڑکا واقف زندگی ہے۔میں اپنی طرف سے اور امۃ النصیر بیگم کی طرف سے پیر معین الدین صاحب ولد پیرا کبر علی صاحب مرحوم سے ایک ہزار روپیہ مہر پر ان کے نکاح کی قبولیت کا اعلان کرتا ہوں۔پیر معین الدین ولد پیرا کبر علی صاحب مرحوم کیا آپ کو ایک ہزار روپیہ مہر پر امتة النصیر بیگم بنت مرزا محموداحمد سے اپنا نکاح منظور ہے؟“ ان کی منظوری کے بعد حضور نے فرمایا : ) دوست اب دُعا کر لیں۔اس کے بعد جلسہ کا افتتاح ہوگا۔“ ( دُعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:-) آج ہم پھر کسی انسان کے حکم سے نہیں ، کسی ذاتی خواہش کے مطابق نہیں، کسی دنیوی نفع حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ محض خدا تعالیٰ کے نام کی عزت کے لئے اور اس کے دین کی خدمت کے مواقع تلاش کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ہم اپنے مخالفوں کی نظر میں ایک حقیر کیڑے سے بھی بدتر ہیں لیکن اس حقارت اور اس عداوت کو دیکھ کر ہمارے دل نہ مایوس ہوتے ہیں نہ افسردہ ہوتے ہیں اس لئے کہ ہماری نظر میں یہ سلوک بہترین انعام ہے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہونے والی جماعتوں کو ملا کرتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ جب اکیلا گلی میں سے گزر رہا ہوتا ہے اور گلی کے اوباش اور شر بریٹر کے اُس کو دق کرنے کے لئے اس پر حملہ کرتے ہیں اور اُس کی آواز سُن کر اُس کی ماں بے تاب ہو کر اپنے گھر سے باہر نکل آتی ہے تو وہ اس لڑکے کی افسردگی کا وقت نہیں ہوتا بلکہ وہ اس پر ناز کرتا ہے کہ میری ماں نے میرے لئے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔آخر سیدھی بات ہے کہ