انوارالعلوم (جلد 22) — Page 411
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۱۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ہجرت ہجرت رقم فرموده حضرت خلیفة المسیح الثانی) آج سے قریباً ساڑھے تیرہ سو سال پہلے بنی نوع انسان کے سردار، آخری شریعت کے حامل ، مالک ارض و سما کے محبوب، اپنے اہل وطن کے ظلم وستم سے ستائے جا کر ، اپنے محبوب وطن کے چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے ۔ مکہ سے نکل کر آپ تین دن غار ثور میں چھپے رہے ۔ جب وہاں سے آپ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ نے مکہ کی طرف منہ کیا اور کچھ دیر تک محبت سے لبریز نگاہوں سے دیکھنے کے بعد کہا اے مکہ ! تو مجھے دُنیا کی ساری جگہوں سے زیادہ پیارا ہے لیکن تیرے شہریوں نے مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیے یہ وہ آخری فقرہ تھا جو مکہ کو وداع کہتے وقت میرے آقا نے کہا۔ اراس فقرہ کا ایک ایک لفظ اس غم اور رنج کی ترجمانی کر رہا ہے جو مکہ کے چھوڑ نے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا ہو رہا تھا ۔ آج ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد بھی ہمارے دل اس فقرہ کو پڑھ کر ہاتھوں سے نکلنے لگتے ہیں تو قیاس کرو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جنہوں نے وہ الفاظ عین موقع پر اپنے کانوں سے سنے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اُس وقت آپ ۔ مکہ نے کے ساتھ تھے یہ الفاظ سنتے ہی اُن کا دل بے قابو ہو گیا اور بے اختیار بول اُٹھے مکہ اپنے نبی کو نکال دیا ، اب یہ شہر اپنی تباہی کا انتظار کرے ۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا فقرہ کہنے کے بعد اس غم اور صدمہ کو جو مکہ کے چھوڑنے پر آپ کے دل میں پیدا ہوا تھا یکسر بھلا دیا۔ وہ کامل وقار اور سکون کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور