انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 406

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰۶ رسول کریم ﷺ کا بلند کر دار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔لئے تیار تھے۔ان تین اعلیٰ اخلاق کو پیش کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی مثال بھی دُنیا کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔اس وقت میری صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں کوئی لمبا مضمون بیان کروں۔میری غرض اِس وقت آنے کی یہ تھی کہ تمہیں بتاؤں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کا نقشہ آپ کے پہلے الہام میں کس طرح بیان کیا گیا ہے۔ایک با اخلاق انسان کو جب کوئی کام دیا جاتا ہے تو پہلے وہ پوچھتا ہے کہ مجھے بتاؤ کہ میں تمہاری بات کیوں مانوں؟ میں ڈر سے کوئی بات مانے کو تیار نہیں۔جب اُس پر حق ثابت کیا جاتا ہے تو اعلیٰ اخلاق والا انسان یہ کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ آپ کا مجھ پر حق ہے لیکن اس کام کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہے اس لئے پہلے یہ بتاؤ کہ کیا تمہارا ان پر بھی حق ہے؟ اگر تمہارا ان پر بھی حق ہے تو پھر میں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا۔پھر جب یہ سوال حل ہو جاتا ہی ہے تو اخلاق فاضلہ والا انسان یہ پوچھتا ہے کہ مخاطبین پر تمہارا حق سہی مگر کیا اس پیغا مبری کا مادی یا اخلاقی فائدہ ہے اور اس پیغام کے پہنچانے میں کوئی حکمت کارفرما ہے؟ اگر ایسا کی ہو تو میں یہ کام کر سکتا ہوں ورنہ نہیں کیونکہ اس کے بغیر کام کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ گومیں ایک فرض بجالاتا ہوں، گومیں لوگوں کو اُن کے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں مگر ایک بے فائدہ اور بے نتیجہ کام کرتا ہوں۔چنانچہ فطرت صحیحہ کے اس مظاہرہ کا بھی جواب اس آیت میں دیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ کام بظاہر بے فائدہ نظر آتا ہے مگر حقیقتا بے فائدہ نہیں نتیجہ خیز ہے اور مفید ہے۔غرض ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق ہے کیونکہ اس نے آپ کو پیدا کیا ہے اور تربیت کر کے کمال تک پہنچایا ہے۔پھر مخلوقات پر بھی اُس کا حق ہے کیونکہ وہ ان کا بھی خالق و مالک ہے۔پھر انسان کی فطرت میں خدائی محبت رکھی گئی ہے اس لئے یہ کہنا کہ آپ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے غلط ہے۔آج احمدی بھی کہتے ہیں کہ غیر احمدی کس طرح مانیں گے؟ تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو علی سے پیدا کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں محبت کا مادہ رکھ