انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 401

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰۱ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔اس آیت میں نظر آ جاتا ہے اس لئے کہ جب فرشتہ نے کہا اقرا تو پڑھ تو اس نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا باسم ربك الذي خلق تو اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے تجھے پیدا کیا ہے۔یعنی جو خدا تیرا خالق و مالک ہے وہ اپنے خالق و مالک ہونے کی وجہ سے تجھے حکم دیتا ہے بلا وجہ حکم نہیں دیتا۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فطرت صحیحہ کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ کوئی کام بلا وجہ اور بلا دلیل نہیں کرتے تھے۔جب کوئی انسان اس حکمت کے ماتحت کام کرنے لگ جائے تو خواہ اسے الہام کی روشنی نصیب نہ ہو ، وہ شاندار کام کر جاتا ہے۔چنانچہ بعض جرنیلوں نے با وجود اسباب کی کمی کے نہایت شاندار کام کیا ہے اس لئے کہ وہ فطرت کے مطابق چلتے تھے۔خالد، سعد بن وقاص، عمر و بن عاص نے صحابہ میں سے اور موسیٰ ، طارق ، محمد بن قاسم نے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں سے اور چنگیز خان، قبلائی خاں اور با تو خاں اور تیمور نے ایشیائی مسلمانوں اور غیر مسلموں میں سے حیرت انگیز کام کئے ہیں۔چند دن ہوئے میں ”با تو خان کے متعلق کچھ باتیں معلوم کرنے کے لئے انسائیکلو پیڈیا دیکھ رہا تھا تو میں نے اُس میں پڑھا کہ اُس کے زمانہ میں لاریاں نہیں تھیں ، گاڑیاں نہیں تھیں اور نہ دوسرے موجودہ زمانہ کے نقل و حرکت کے سامان میسر تھے۔باجود اس کے وہ ایک لشکر جرار کے ساتھ آیا۔یورپ کی تمام قو میں اور حکومتیں اس کے مقابلہ کے لئے اکٹھی ہو گئیں۔وہ چکر کھا کر پولینڈ کی طرف چلا گیا ، یورپین قو میں خوشیاں منانے لگیں کہ ہم با تو خاں سے بچ گئی ہیں لیکن ابھی وہ لوگ خوشی کا جشن ہی منا رہے تھے کہ وہ بجلی کی کی رفتار سے پولینڈ کو فتح کرتے ہوئے ہنگری کے اُن میدانوں میں اُتر آیا جہاں یورپ کی فوجیں جمع تھیں۔غرض باوجود سامان نقل و حرکت کے نہ ہونے کے یہ لوگ اس طرح سفر کرتے تھے جس طرح آندھیاں چلتی ہیں اور یہ محض ہوشیاری اور ذہانت کی وجہ سے تھا۔وہ لوگ بے سوچے سمجھے کام نہیں کرتے تھے بلکہ عقل سے کام لیتے تھے۔اسی طرح کی تیمور تھا، نپولین تھا ، یا اس زمانہ میں ہٹلر تھا۔چاہے وہ نا کام ہو گیا لیکن ایک عرصہ تک لوگ حیران تھے کہ وہ کیا کرتا ہے۔