انوارالعلوم (جلد 22) — Page 399
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹۹ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔کا ذکر ہے۔جیسے نمود اور عاد کا ذکر ہے جو عرب میں یا عرب کے کناروں میں گزری ہیں اور عرب لوگ ان سے واقف تھے لیکن قرآن کریم میں حضرت کرشن اور حضرت رام چندر علیہما السلام کا ذکر نہیں۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کو قرآن کریم خدا تعالیٰ کا نبی نہیں مانتا۔قرآن کریم نے انا ارسلنكَ بالحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، وَإِن مِّنْ أُمَّةِ الَّا خَلَا فِيهَا نذیر سے کہہ کر ان کی نبوت کو تسلیم کیا ہے۔اس کا ایک طرف یہ کہنا کہ ہر قوم میں نبی گزرا ہے اور دوسری طرف ان سب کا ذکر نہ کرنا بلکہ صرف اُن کا ذکر کرنا جو عرب کے علاقہ میں گزرے ہیں یا اُس کے ارد گرد گزرے ہیں یہ بتاتا ہے کہ قرآن کریم میں صرف اُن انبیاء اور قوموں کا ذکر ہے جو عرب کے ساتھ ساتھ تھیں اور عرب لوگ اُنہیں جانتے تھے کیونکہ جوشخص پیغام کو صیح طور پر سمجھ نہ سکے وہ صحیح طور پر پیغام نہیں پہنچا سکتا۔صحیح پیغام پہنچانے کے لئے ضروری تھا کہ جن کو وہ پیغام دیا گیا ہے وہ اُسے سمجھ سکتے اس لئے قرآن کریم میں صرف اُن انبیاء اور قوموں کا ذکر آتا ہے جن کو عرب لوگ جانتے تھے تا وہ ان واقعات سے نتیجہ اخذ کر سکیں اور اس کے بعد غیر معروف نبیوں کا صرف اصولی طور پر ذکر کر دیا گیا ہے۔پس جب بھی کسی سے کلام کیا جاتا ہے تو کلام میں مخاطب کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔اب اقرا باسمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ایک فقرہ ہے جس میں بظاہر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے اور رب کے معنے ہیں وہ ذات جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر ایسے ذرائع مہیا کئے جن پر عمل کر کے وہ دُنیا میں ترقی کر سکتا ہے اور پھر بڑھاتے بڑھاتے انسان کو کمال تک پہنچا دیا۔پس جہاں تک انسان کی پیدائش کا سوال ہے وہ لفظ رب میں آجاتا تھا اور یہ کہنا کافی تھا کہ اقرا با شو رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ پڑھ اُسی رب کا نام لے کر جس نے دُنیا کو پیدا کیا ہے لیکن اس جگہ اپنے رب کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ان الفاظ سے بنی نوع انسان کی پیدائش اور ان کی ربوبیت کے مضمون سے ترقی کر کے خود اس فرد مخاطب کی پیدائش اور ربوبیت کی طرف توجہ پھیری گئی ہے جو قرآن کریم کا سب سے پہلا مخاطب ہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔