انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 391

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۳۹۱ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے معلوم ہوتی ہیں ( خطاب فرموده ۱۸ نومبر ۱۹۵۱ء بر موقع جلسه سیرة النبی بمقام بیت مبارک ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں آج محض اس غرض کے لئے جلسہ میں آ گیا ہوں کہ مجھے عرصہ سے سیرت النبیؐ کے جلسوں میں بولنے کا موقع نہیں ملا ، ورنہ میری صحت اس امر کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ میں جلسہ میں آؤں اور تقریر کروں ۔ میرا گلہ بیٹھا ہوا ہے اور کھانسی کی شکایت ہے۔کل بخار بھی رہا ہے اور اس سے پہلے بھی بخار آتا رہا ہے اس لئے میرے لئے کھڑا ہونا مشکل ہے ۔ پس میری یہاں آنے کی اصل غرض یہ نہیں کہ میں کوئی تقریر کروں ۔ تقریریں لوگ کرتے ہی ہیں بلکہ میری یہاں آنے کی غرض حصول برکت تھی جو اس قسم کے جلسوں میں شمولیت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے ۔ میں جب یہاں پہنچا تو اس بات کو دیکھ کر مجھے سخت افسوس ہوا کہ اکثر لوگوں نے اس بارہ میں بے توجہی سے کام لیا ہے ۔ جو لوگ جلسہ میں نے سے ہے۔ میں بارہ میں ہے تو بھی سے کام لیا ہے۔ جو لوگ جلسہ میں حاضر ہیں وہ ربوہ کی آبادی کے تیسرے حصہ سے بھی کم ہیں ۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ ہم باہر تو تحریک کرتے ہیں کہ احمدی اور غیر احمدی تو کیا ، غیر مسلم بھی اس قسم کے جلسوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں لیکن خود ہماری دلچسپی کا یہ حال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سننے کے لئے سال میں ہم ایک دن بھی نہیں نکال سکتے ۔ اس سال جلسہ کی حاضری دیکھ کر میں یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ گزشتہ سالوں میں بھی ویسی