انوارالعلوم (جلد 22) — Page 376
انوار العلوم جلد ۲۲ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور چند دن کے بعد یہ سمجھ کر کہ میں بھول گیا ہوں گا بے فکر ہو جاتے ہیں۔غرض مرکز میں بھی اب نقص پیدا ہو رہا ہے۔وکلاء اُس معیار پر قائم نہیں جس معیار پر انہیں قائم ہونا چاہئے تھا۔وہ ذاتی طور پر بہت کم کام کرتے ہیں اور دوسروں سے کام لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ساری عمر ہم نے خود کام کیا اور دفتر سے پتہ کیا جا سکتا ہے کہ میرے ہاتھ کا لکھا ہؤا روزانہ کتنا ہوتا ہے۔بے شک اب نقرس کی وجہ سے مجھ سے لکھا کم جاتا ہے اور اکثر اوقات میں کسی دوسرے شخص سے لکھواتا ہوں لیکن یہ بیماری کی وجہ سے ہے۔پہلے میں کتابیں بھی تصنیف کرتا تھا اور اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا۔ڈاک پر نوٹ بھی میں خود لکھتا تھا۔مسلوں پر نوٹ بھی میں خود لکھتا تھا اور یہ کبھی نہیں ہو ا تھا کہ میں نے اس کام کے لئے کوئی آدمی رکھا ہو۔اب بھی شوق ہے کہ میں اُنگلیوں کو کام کی عادت ڈالوں اور پھر خود کام کرنا شروع کر دوں لیکن نقرس کی وجہ سے اُنگلیاں چلتی نہیں پھر بھی ہر ناظر اور وکیل سے زیادہ تحریر میری ہوتی ہے۔بہر حال دفتر میں یہ نقص بھی ہے کہ وکلاء خود کام کم کرتے ہیں اور عملہ کو بڑھاتے جارہے ہیں لیکن اس کا تعلق آمد سے نہیں صرف تحریک کی روح کی خلاف ورزی ہے۔آمد سے تعلق تب ہوتا اگر وعدوں سے بجٹ کو بڑھا کر پیش کیا جاتا۔مگر ایسا نہیں۔خرچ کے بجٹ میں زیادتی ہوتی تو مرکزی انجمن ذمہ دار تھی لیکن واقعہ یہ ہے کہ آمد کم ہو رہی ہے۔چھ ماہ میں جہاں تین لاکھ روپیہ وصول ہو جاتا تھا وہاں اب 9 ماہ میں صرف ڈیڑھ لاکھ روپیہ وصول ہوا ہے۔حالانکہ ملک میں آمد نیں بڑھ رہی ہیں۔جب سے پاکستان بنا ہے مُلک آزاد ہو جانے کی وجہ سے تجارت اور صنعت بڑھ گئی ہے جس کا ما ہوار آمدنوں پر اثر پڑا ہے۔سنٹرل گورنمنٹ نے اب جو گریڈ بنائے ہیں اُس پر دو کروڑ روپیہ زائد خرچ آئے گا اور جن لوگوں کے گریڈ بڑھے ہیں اُن میں احمدی بھی ہیں۔پھر صوبائی حکومت نے بھی تنخواہوں میں زیادتی کی ہے اور ملکی آزادی کی وجہ سے لوگوں کی آمد میں بڑھ گئی ہیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ چندے بڑھ جائیں۔وصیت کا محکمہ ہے وہاں یہ اجازت ہے کہ جب کوئی چاہے اپنی وصیت منسوخ کرا دے لیکن پھر بھی لوگ وصیت منسوخ نہیں کراتے اور چندہ بھی نہیں دیتے۔جب اخراج از جماعت کی سزا