انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 13

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۳ عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بنا سکتی ہیں ہیں پس ان لڑکوں کی موجودگی میں جو مجھ سے زیادہ اچھے ہیں اور ان لڑکوں کی موجودگی میں جن کے باپ میرے باپ سے زیادہ اچھے ہیں میرا تخت شاہی پر بیٹھنا مناسب نہیں چنانچہ میں اس بادشاہت کو چھوڑتا ہوں۔یہ مسلمانوں کا حق ہے وہ جسے چاہیں دیدیں میں بادشاہت کے لئے تیار نہیں ہوں۔میرے نزدیک ہمارے باپ دادا نے بھی ظلم کیا تھا اور میں ان ظلموں میں شریک ہونے کیلئے تیار نہیں ہوں۔اے اُس کی ماں نے جب یہ تقریر سنی تو اُس نے زور سے اپنے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا نالائق تو نے اپنے باپ دادا کی ناک کاٹ دی۔اس نے کہا اماں! میں نے اپنے باپ دادا کی ناک نہیں کاٹی بلکہ جوڑی ہے۔اس کے بعد اُس نے اپنے کمرے میں داخل ہو کر دروازے بند کر لئے اور چند روز کے بعد ہی فوت ہو گیا۔یہ اس کی طبعی فطرت کا اظہار تھا ورنہ ماں نے اسے ضرور خراب کرنے کی کوشش کی ہوگی اور اُس نے ہی تحریک کی ہوگی کہ تو ظلم کو جاری رکھ اور حکومت پر قبضہ کرلے جس پر تیرے باپ نے ظالمانہ طور پر قبضہ کیا ہو ا تھا۔تو ماں کی تربیت ایک نہایت اہم چیز ہے۔مرد کا کام موجودہ زمانہ کی اصلاح کرنا ہے عورت کا کام آئندہ زمانہ کی اصلاح کرنا ہے۔یہ صاف ظاہر ہے کہ اِن دونوں میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔بے شک موجودہ کام مرد کرتے ہیں لیکن آئندہ دور کی تعمیر عور تیں کرتی ہیں۔اگر عورتوں نے آئندہ نسل کی صحیح تربیت نہیں کی ہوگی اور ایسے قائمقام پیدا نہیں کئے ہونگے جو دین اور تقویٰ سے متاثر ہوں تو مردوں کی تمام کوششیں اکارت چلی جائیں گی۔پس عورت کی ذمہ داری مرد سے کم نہیں۔اگر وہ اپنے فرائض کو بھول کر ان کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیتی ہے جو مرد کے سپرد کئے گئے ہیں تو اس کا یہ فعل ایسا ہی ہو گا جیسا کسی کو حج بنایا جائے اور وہ ایک سپاہی کو دیکھے کہ وہ دائیں طرف ہاتھ کرتا ہے تو اُس طرف کی کاریں کھڑی ہو جاتی ہیں اور بائیں طرف ہاتھ کرتا ہے تو اُس طرف کی کاریں کھڑی ہو جاتی ہیں تو وہ اس نظارے سے ایسا متاثر ہو کہ حجی کا کام چھوڑ کر سپاہی کا کام اختیار کرے حالانکہ سپاہی کا کام بہت ادنی ہے۔بیشک اُس کی شان بڑی نظر آتی ہے کہ وہ اکڑا ہوا کھڑا ہوتا ہے اور سامنے سے کسی رئیس یا حج یا فوج کے اعلیٰ افسر