انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 12

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۲ عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بناسکتی ہیں حضرت عائشہؓ سے پوچھ لیتے تھے اور اُن کی مشکل حل ہو جاتی تھی۔غرض عورتوں کے حقوق اور اُن کے فرائض اور کاموں کے متعلق جو معلومات حضرت عائشہ کو تھیں وہ مردوں کو بھی نہیں تھیں اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حصہ عائشہ سے سیکھو کیونکہ عائشہ اپنی خلقت اور بناوٹ کی وجہ سے یہ حصہ زیادہ یا درکھ سکتی تھیں۔چنانچہ عورتوں کے متعلق جتنے مسائل ہوتے تھے وہ صحابہ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھتے تھے اور دریافت کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے بارہ میں کیا مسلک تھا۔تو تعلیم میں بھی عورتیں ہمیشہ حصہ لیتی رہی ہیں لیکن سب سے بڑا کام جو عورت کے ذمہ لگایا گیا ہے وہ تربیت صحیح ہے۔یعنی اولاد کو صحیح اور سچا مسلمان بنانا۔بہت سی عورتیں یہ بجھتی ہیں کہ یہ کوئی کام نہیں حالانکہ اگر ہم غور کریں تو دنیا میں جتنی تبا ہی آئی ہے آئندہ نسل کی صحیح تربیت نہ کرنے کی وجہ سے ہی آئی ہے۔اور جب بھی کسی قوم نے ترقی کی ہے آئندہ نسل کے اچھا ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔اور اس کا اگلا قدم تباہی کی طرف اُسی وقت اُٹھا ہے جب اس کی آئندہ نسل خراب ہوگئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو ہی دیکھ لو۔تمیں سال تک اسلام نے کیسی ترقی کی تھی مگر پھر جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا تھا کہ میں نے دیکھا میرے منبر پرسؤ ر اور گتے ناچ رہے ہیں۔شہ میں چالیس برس کے بعد ایسے جوان پیدا ہو گئے جن کی ماؤں نے ان کی صحیح تربیت نہیں کی تھی اور وہ ایسے خراب ثابت ہوئے کہ بادشاہ بھی بنے ، وزراء بھی بنے ، گونر بھی بنے ، علاقوں کے حکمران بھی بنے مگر اسلام سے ان کو اتنی دوری تھی کہ خدا نے ان کو سوروں اور گتوں سے مشابہت دیدی۔وہ اُس منبر پر بیٹھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا مگر انہوں نے باتیں وہ کیں جو گتوں اور سوروں والی تھیں اور جو اتنی بھیانک اور خوفناک تھیں کہ خود اُن کی اولادوں نے ان کے خلاف نفرت اور ی حقارت کا اظہار کیا۔یزید کے مرنے کے بعد جب اس کے بیٹے کو بادشاہ بنایا گیا تو اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔اے لوگو! اس وقت تم میں ایسے لڑکے موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اچھے ہیں اور ایسے لڑکے موجود ہیں جن کے باپ میرے باپ سے زیادہ اچھے