انوارالعلوم (جلد 22) — Page 341
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۴۱ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو - یورپ ایک بے پر د ملک تھا اور بے پردگی ان میں فیشن سمجھا جاتا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان عورت پردہ کرتی ہے تو بہت حد تک انہوں نے بھی پردہ لے لیا۔ چنانچہ ننز (NUNS) میں گو پورا پردہ نہ ہو لیکن ان کی نقاب بھی ہوتی ہے ، ان کی پیشانی بھی ڈھکی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے جسم پر کوٹ بھی ہوتا ہے جس سے ان کے تمام اعضاء ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں اور گو ہم اسے پورا اسلامی پردہ نہ کہہ سکیں مگر نوے فیصدی پر دہ ان میں ضرور پایا جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ وہ عورت تھی جو اسلام کے یورپ میں جانے سے پہلے تنگی پھرتی تھی اور جیسے بندریا کو ایک گھگھری پہنا دی جاتی ہے اسی طرح انہوں نے ایک کھکھری پہنی ہوئی ہوتی بھی چنانچہ یورپ کی پُرانی تصویریں دیکھ لو عورتوں کے باز وٹانیں اور سینہ وغیرہ سب ننگا ہوتا تھا مگر جب مسلمان عورتوں کو انہوں نے پردہ کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی پردہ کے بہت سے حصوں کو لے لیا۔ مگر اب یورپ پھر اُسی پہلے زمانہ کی طرف جا رہا ہے اور مسلمان عورت بھی پردہ اُتار کر خوش ہوتی ہے کہ وہ یورپ کی نقل کر رہی ہے۔ آج کی مسلمان عورت یہ کہتی ہے کہ ہم زمانہ کے ساتھ چلیں اور پرانی مسلمان عورت یہ کہتی تھی کہ زمانہ میرے ساتھ ہے۔ یہ اپنی غلامی کا اقرار کرتی ہے اور وہ اپنی بادشاہی کا اعلان کرتی تھی کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں دوسروں کی نقل کروں ہے لوگوں کا کام ہے کہ وہ میری نقل کریں ۔ غرض میں کہہ یہ رہا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ا کا کام ہے کہ وہ میری ملک لئے تعلیم میں مشکلات تھیں ۔ تعلیم یں ایک عیسائی قوم ہم پر حاکم تھی اور مغربی تعلیم دلوانے میں ہمارے لئے مشکلات تھیں ۔ پس میں اس بات پر زور دیتا تھا کہ ہماری لڑکیاں دینیات کلاس میں پڑھیں اور اپنا سارا زور مذہبی اور دینی تعلیم کے حصول میں صرف کریں اور شاید جماعت میں میں اکیلا ہی تھا جو اس بات پر زور دیتا تھا ورنہ جماعت کے افسر کیا اور افراد کیا ان سب کی مختلف وقتوں میں یہی کوشش رہی کہ ہائی سکول کے ساتھ ایک بورڈ نگ بنانے کی اجازت دے دی جائے تا کہ بیرون جات سے لڑکیاں آئیں اور وہ قادیان میں رہ کر انگریزی تعلیم حاصل کریں ۔ اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا جاتا رہا کہ لڑکیوں کے لئے کالج کھولنے