انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 324

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۲۴ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش بُرا ہی سہی۔پس تم میرا بیان کردہ طریق اختیار کرو اور یہ مت کہو کہ فلاں کام نہیں کرتا اور اس کی اصلاح سے مایوس مت ہو جاؤ۔میں نتیجہ نکالنے سے منع کرتا ہوں واقعات بیان کرنے سے منع نہیں کرتا۔واقعات بیان کرنا نہایت ضروری چیز ہے لیکن یہ مت کہو کہ لوگ ایسے ہو گئے ہیں۔اگر ایک شخص نے جھوٹ بولا تو یہ مت کہو کہ سارے جھوٹ بولتے ہیں بلکہ یہ کہو کہ فلاں نے جھوٹ بولا ہے۔ہم سچ بولنے کی اہمیت کو جانتے ہیں اس لئے ہم اسے سمجھا ئیں گے کہ وہ جھوٹ نہ بولے۔یا ایک شخص نے خیانت کی ہو تو یہ مت کہو کہ سب خائن ہو گئے بلکہ یہ کہو کہ ایک شخص نے خیانت کی ہے ہم سب مل کر اس کی اصلاح کی کوشش کریں گے۔میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب کوئی کہتا ہے کہ لوگ مر گئے ہیں یا لوگ خائن کی ہو گئے ہیں تو اس میں بہت حد تک جھوٹ ہوتا ہے اور پھر یہ بے اصولے پن کی بھی علامت ہوتی ہے کہ یا تو انسان ایک ہی جھاڑو سے سب کو گندے گڑھے میں ڈال دیتا ہے اور یا پھر سب کو عرش پر پہنچا دیتا ہے۔اگر وہ کوئی تقریر کرے اور لوگ سُبحَانَ اللہ کہ دیں تو وہ خوشی سے باہر نکلتا ہے اور کہتا ہے کہ سب لوگ اچھے ہیں لیکن اگر کوئی اُس پر اعتراض کر دے تو کہہ دیتا ہے کہ سب لوگ خراب ہیں۔پس جس خادم سے کوئی غلطی سرزد ہو تم اُس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرو اور مرکز کو اطلاع دو لیکن یہ نہ کرو کہ لکھ دو کہ سب خراب ہیں وہ ہماری بات نہیں سنتے۔یہ لغو طریق ہے اسے اختیار نہیں کرنا چاہئے۔پرانے لوگوں نے لطیفے کے طور پر بیان کیا ہے کہ ایک نائی تھا وہ عموماً درباریوں کی حجامت بنایا کرتا تھا۔کسی درباری نے خوش ہو کر اُسے پانچ سو اشرفیاں دے دیں۔جب اسے اس قدر نقدی ملی تو بجائے اس کے کہ وہ اُسے کہیں سنبھال کر رکھے وہ اسے اپنے ساتھ اُٹھائے پھرتا تھا۔وہ امراء کی حجامتیں بنانے جاتا تو تھیلی ساتھ اُٹھا لیتا آہستہ آہستہ یہ ایک مذاق بن گیا۔کوئی پوچھتا کہ یہ کیا ہے؟ تو وہ کہتا یہ پانچ سو اشرفیاں ہیں۔ایک دن ایک امیر نے اُس سے پوچھا بتاؤ شہر کا کیا حال ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ کیا حال پوچھتے ہو جناب ! دھن برستا ہے اور کوئی کمبخت ایسا نہیں ہو گا جس کے پاس پانچ سو اشرفیاں بھی نہ ہوں۔چونکہ وہ عموماً امراء کے پاس جایا کرتا تھا اس لئے وہ زیادہ احتیاط نہیں کرتا تھا۔