انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 320

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۲۰ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش نہیں پڑھتا اور جب کوئی پڑھے گا نہیں تو عمل کیسے کرے گا۔میرے خطبوں کو ہی لے لو اگر انہیں اگر جمع کیا جائے تو کئی جلدیں تیار ہو سکتی ہیں لیکن لوگ ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے سوائے اس کے کہ انہیں سُن لیا یا اخبار میں پڑھ لیا۔یہ نہیں کہ بعد میں بھی انہیں پڑھ کر ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔پس کسی چیز کی طوالت فائدہ نہیں دیتی بلکہ عزم فائدہ دیتا ہے۔تم لوگوں نے یہاں آکر تعلیم حاصل کی ہے اگر تم غور کرو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے علاوہ جن اصولی باتوں کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے وہ گھر میں موجود ہیں۔یہاں آکر ان باتوں کو سیکھنے کا یہی فائدہ ہے کہ انسان دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتا ہے ان سے ملتا جلتا ہے جس سے دل میں ایک نیا جوش اور نیا عزم پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے كونوا مع الصدقین کے اسی طرح کہا جاتا ہے کہ: صالح ترا صالح کنند طالع ترا طالع کنند انسان جب کسی دوسرے کی صحبت میں بیٹھتا ہے تو اُس کے اندر نیکی کا جوش پیدا ہو جاتا ہے۔تم بھی ایک نیا جوش اور نیا عزم لے کر یہاں سے جاؤ اور واپس جا کر اسے دوسرے لوگوں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کرو۔مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے کہ میں نے ہوائی بندوق خریدی اور ہم چند بچے اکھٹے ہو کر باہر شکار کو نکلے۔بچوں کے لئے ہوائی بندوق رائفل سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔ہوائی بندوق سے دو چار گز کے فاصلہ سے ہی شکار کیا جا سکتا ہے زیادہ فاصلہ سے شکار نہیں کیا جاسکتا۔قادیان میں چونکہ اور بندوقیں بھی تھیں اور لوگ بالعموم شکار کے لئے باہر جاتے تھے اس لئے جانور قریب پہنچنے سے پہلے اُڑ جاتا تھا اور دُور سے فائر کرنا مفید نہیں تھا اس کی لئے ہم چاہتے تھے کہ کچھ فاختائیں چھاتی تان کر درخت پر بیٹھی رہیں اور ہم قریب پہنچ کر اُنہیں شکار کر لیں۔چنانچہ ہم دیہات کی طرف نکل گئے اور ہمارے ارد گرد بچے جمع ہو گئے ہر ایک بچہ یہ کہتا تھا کہ تم ہمارے گاؤں چلو وہاں ایک ایک درخت پر ساٹھ ساٹھ فاختائیں بیٹھتی ہیں۔آخر کا ر ان میں سے ایک لڑکا را ہنما بن کر جوش سے ہمارے آگے