انوارالعلوم (جلد 22) — Page 319
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱۹ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش سچ بولنا ہے۔پھر اس بات کی ضرورت نہیں کہ بتایا جائے کہ دوسروں پر ظلم نہ کرو۔اِس بات پر غور و فکر کی ضروت نہیں کہ کہ امانت سے کام لینا چاہئے اس امر کی تحقیقات کی ضرورت نہیں کہ چوری نہیں کرنی چاہئے۔صرف ارادہ کی ضرورت ہے۔پس جہاں تک ظلم نہ کرنے ، دیانت سے کام لینے ، سچ بولنے اور چوری نہ کرنے کا سوال ہے ان کا حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔ان صداقتوں کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے مبعوث کرنے کی ضروت نہیں تھی کیونکہ یہ صداقتیں شروع سے ایک ہی چلی آتی ہیں صرف لوگوں کی تربیت کے لئے ان کی ضرورت پیش آئی ہے تا کہ لوگ اپنا نیک نمونہ پیش کریں اور ان کے نمونہ سے دُنیا میں ایک نئی حرکت ، نیا جوش اور نیا عزم پیدا ہو جائے اور لوگ ان صداقتوں پر عمل کرنے لگ جائیں۔مثلاً سچ کی ہے یہ تعلیم حضرت داؤد، حضرت یحی ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام دوسرے انبیاء نے دی ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُمت کے دوسرے بزرگوں نے بھی بیچ کی تعلیم دی ہے اس کے لئے حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کو مبعوث کرنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ان کی ضروت اس لئے پیش آئی کہ لوگوں کے سامنے پیش کریں کہ سچ بولا جا سکتا ہے تا اس سے لوگوں کے اندر حرکت پیدا ہو اور وہ اس تعلیم پر عمل کرنے لگ جائیں ورنہ بیچ وہی تھا جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں تھا علیه ای کوئی نئی چیز نہیں تھی۔پس اصل چیز یہی ہے کہ اپنے اندر ایک جوش اور عزم پیدا کیا جائے۔وعظ ونصیحت جتنی زیادہ ہوتی ہے وہ انسان پر بوجھ ہوتی چلی جاتی ہے۔قرآن کریم کے ایک چھوٹی سی کتاب ہونے میں بھی ایک حکمت تھی کہ لوگ اسے بار بار پڑھیں اور عمل کریں۔اسے بوجھ سمجھ کر اس کی طرف سے توجہ نہ ہٹا لیں۔اگر یہ بڑی کتاب ہوتی تو لوگ اسے دیکھ کر گھبرا جاتے اور چاہتے کہ کسی طرح اس کا خلاصہ نکال لیا جائے کیونکہ بڑی کتابوں کو کوئی