انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 310

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱۰ اپنے اندر سچائی ،محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو جو اسلام کی تائید میں اُس وقت تلوار چلا رہا تھا جب تمہارا باپ کفر کی سرداری کر رہا تھا لیکن مجھے خیال آیا کہ اس طرح فتنہ کا دروازہ کھل جائے گا اس لئے میں نے دوبارہ پڑکا باندھ لیا اور خاموش رہنا ہی بہتر خیال کیا۔یہ ایثار ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمر نے یزید کے مقابلہ میں دکھایا۔آپ کے مقابلہ میں یزید تو کوئی نسبت ہی نہیں رکھتا تھا۔وہ تو ایک خبیث انسان تھا۔آپ کے مقابلہ میں ابوسفیان اور حضرت معاویہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں تھی۔وہ ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے اور اُس وقت ایمان لائے تھے جب حضرت عمر بھی ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔آپ جب ایمان لائے تو آپ کی عمر ۱۵ سال کی تھی اور اپنے باپ سے کئی سال قبل آپ ایمان لے آئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو اس قد رعشق تھا کہ بعض اوقات حضرت عمرؓ فرماتے تھے فلاں بات عبداللہ سے پوچھ لو۔کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو زیادہ جانتا ہے۔یعنی آپ کی فضیلت کو حضرت عمر بھی تسلیم کرتے تھے۔یزید کے مقابلہ میں ان کا حق تو مسلم تھا لیکن انہوں نے اپنا حق چھوڑ دیا اور کہا میں لوگوں کو فتنہ میں نہیں ڈالنا چاہتا۔یزید خلیفہ بنتا ہے تو بنے دو میں کیوں فتنہ کا موجب بنوں۔لیکن میں کہتا ہوں کاش ! حضرت عبداللہ بن عمرؓ اس موقع پر خاموش نہ رہتے بلکہ بول پڑتے۔وہ حکومت کے یقیناً حقدار تھے۔اگر وہ حکومت حاصل کر لیتے تو یقیناً اسلامی حکومت میں جو فوراً تنزل شروع ہو گیا تھاوہ نہ آتا اور اسلام کی ترقی کا دور لمبا ہو جاتا۔ہم حضرت معاویہ کی خلافت کے قائل نہیں۔وہ ایک بادشاہ تھے اور بادشاہ ہونے کے لحاظ سے ایک اچھے بادشاہ تھے۔اُخروی لحاظ سے وہ صحابی اور نیک آدمی تھے لیکن خلیفہ نہیں تھے۔اُن کے پاس خلافت آئی نہیں۔خلافت دو ہی صورتوں میں اُن کے پاس آ سکتی تھی یا تو خدا تعالیٰ انہیں خلیفہ مقرر کر دیتا یا مسلمان جمہور انہیں خلیفہ منتخب کر لیتے۔اگر اُنہیں خلیفہ سمجھا جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ ان کے پاس خلافت کہاں سے آئی؟ کی ظاہر ہے کہ نہ انہیں خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا تھا اور نہ جمہور مسلمانوں نے اُنہیں خلیفہ منتخب کیا۔اس لئے وہ خلیفہ نہیں کہلا سکتے۔غرض حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے سوچا کہ بنیادی