انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 309

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۰۹ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو سارے لوگ یہ کہتے کہ یہی حق ہمارا ہے۔اس لئے آپ نے فرمایا دوسرے کے لئے اپنا حق قربان کر دیا کرو اور جب اکثر لوگ ایثار کریں گے تو وہ ظلم سے بچے رہیں گے۔سو میں سے ایک آدھ آدمی ایسا ہو گا جس کو اپنا حق دوسرے کے لئے چھوڑنا پڑے۔باقی سب ایسے ہی ہوں گے جن کا حق نہیں ہوگا اور وہ دوسرے کا حق غصب کرنے سے بچ جائیں گے۔قوم کا مفید وجود بننے کے لئے یہ روح نہایت ضروی ہے اور جو شخص قوم کا مفید وجود بننا چاہتا ہے ضروری ہے کہ وہ ایثار سے کام لے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں آخری زمانہ میں ایک عظیم الشان فتنہ برپا ہو گا جو سب لوگوں پر چھا جائے گا۔اُس وقت مومن وہی ہو گا جو ایثار کرے گا اور سمجھے گا کہ قوم کی اصلاح کے لئے ضروی ہے کہ میں اپنا حق چھوڑ دوں اور خلوت اختیار کرلوں کے اصل بات یہ ہے کہ جب انسانی اخلاق میں تنزل پیدا ہو جاتا ہے تو عام طور پر انسان خواہ مخواہ ہر چیز کو اپنا حق تصور کر لیتا ہے اور ایثار کا لفظ کہہ کر اُسے اس قسم کی حرکات سے روکا گیا ہے۔اگر کسی قوم کے افراد میں ایثار کا مادہ کی نہیں پایا جاتا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔جب حضرت معاویہ سے یہ غلطی ہوئی کہ اُنہوں نے اپنے بیٹے یزید کی خلافت کا اعلان کیا تو اُنہوں نے لوگوں کو مدینہ میں اکٹھا کیا اور یزید کے متعلق کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے بعد میرا بیٹا میرا جانشین ہو کیونکہ ایک ایسے خاندان کا فرد ہے جو عرب میں معزز سمجھا جاتا ہے اور پھر اسے خدمت کا موقع ملا ہے۔اس لئے ان کا حق ہے کہ خلافت انہی کو ملے۔تمہاری کیا رائے ہے؟ آپ کا یہ مطلب تھا کہ یہ لوگ میری تائید کر دیں گے تردید نہیں کریں گے اور میں یزید کی خلافت کا اعلان کر دوں گا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ جو اُس وقت ایمان لائے تھے جب حضرت معاویہؓ کا باپ ابوسفیان کفر کی سرداری کر رہا تھا بلکہ حضرت عمر بھی ابھی ایمان نہیں لائے تھے آپ اُس مجلس میں موجود تھے۔آپ فرماتے ہیں میں پڑکا باندھے بیٹھا تھا جب معاور نے کہا ہمارے خاندان کا حق ہے کہ اسے خلافت ملے اور میرا بیٹا مستحق ہے کہ وہ میرے بعد خلیفہ ہو تو میں نے چاہا کہ پڑکا کھولوں اور کھڑا ہو کر کہوں کہ بادشاہت کا حق دار وہ ہے